ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم صبيًّا قد حُلِق بعض شعر رأسه وترك بعضه، فنهاهم عن ذلك، وقال: «احلقوه كله، أو اتركوه كله».
ترجمہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا، جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈا گیا تھا اور کچھ بنا مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ”یا تو اس کا سارا سر مونڈ دو یا پھر سارا چھوڑ دو“۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کے کچھ بالوں کو مونڈ دیا گیا تھا اور کچھ کو بغیر مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو بچے کے ساتھ دوبارہ ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جائے اور بقیہ کو ویسے ہی چھوڑ دیا جائے۔ یہ ممانعت یا تو کراہت کے لیے ہے یا پھر حرمت کے لیے، لہذا اس کام سے مطلقا پرہیز کرنا ہی بہتر ہے۔
تشریح: العربية
رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم صَبِيًّا قد حُلق بعض شعر رأسه وتُرك بَعضه، وهذا الفعل يُسمى القزع، فَنَهَاهُم عن أن يفعلوا ذلك بالصبي مرة ثانية، وقال لهم: لا يُحلق جزء منه ويترك البقية، وهذا النهي إما على الكراهة وإما على التحريم، فينبغي اجتنابه مطلقًا.
- النهي عن حَلْق بعض شعر الرأس دون بعض لغير حاجة؛ لما فيه من التشبه بأهل الكتاب.
- جواز حلق شعر الرأس كله، وجواز تركه بشرط عدم التشبه بالنساء.
- فيه نهي أولياء الأمور عن حلق بعض شعر الصبية وترك بعضه وإن كان القلم مرفوعا عنهم.
- عدم جواز تمكين الصبي من فعل المحرمات وعلى أولياء أمورهم نهيهم.
- بيان اهتمام الإسلام بالمظهر الخارجي وتحسينه مما يؤدي إلى تميز المسلم.