حدیث

آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن جعفر رضي الله عنهما : أن النبي صلى الله عليه وسلم أمهل آل جعفر ثلاثا، ثم أتاهم، فقال: «لا تبكوا على أخي بعد اليوم» ثم قال: «ادعوا لي بني أخي» فجيء بنا كأننا أفْرُخٌ فقال: «ادعوا لي الحلاق» فأمره، فحلق رؤوسنا».

ترجمہ

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی۔ پھر آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔ پھر فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا،اس وقت ہم چوزوں کی طرح لگ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نائی کو میرے پاس بلاؤ۔ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: غزوہ موتہ میں جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو نبی ﷺ نے ان کے گھر والوں کو تین دن تک(سوگ کرنے) کی مہلت دی تا کہ ان کے دلوں کو اطمینان و تسلی ہو جائےاور ان کے دلوں میں موجود رنج و غم زائل ہوجائے۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”آج کے بعد تم میرے بھائی پر مت رونا“۔ یعنی تین دن کے بعد آپ ﷺ نے انہیں رونے دھونے سے منع فرما دیا کیونکہ ابتدائی صدمہ اور رنج و غم کا وقت لمبا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔ یہاں یہ ممانعت تنزیہی ہے کیونکہ تین دن کے بعد بھی رونا مباح ہے جب تک کہ اس کے ساتھ کسی حرام فعل کا ارتکاب نہ ہو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ یہ محمد، عبد اللہ اور عوف رضی اللہ عنہم تھے۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا جب کہ ہم ایسے لگ رہے تھے جیسے چوزے ہوں۔”فرخ“ پرندے کے بچہ کو کہتے ہیں۔ ان کی یہ حالت اپنے والد کو کھو دینے پر طاری ہونے والے غم کی وجہ سے تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: نائی کو بلاؤ۔ نائی کے آنے پر آپ ﷺ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔ یعنی نبی ﷺ نے نائی کو ان کے سر مونڈنے کا حکم دیا۔ چنانچہ حکم کی تعمیل میں ان کے سر مونڈ دیے گئے۔ کیوں کہ نبی ﷺ نے دیکھا کہ ان کی ماں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اللہ کے راستے میں شہید ہو جانے والے اپنے شوہر کے غم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے بالوں کو سنوار نہیں پا رہی ہیں تو آپ ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں میل کچیل نہ گھر کر لے اور جوئیں نہ پڑ جائیں، لہٰذا اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اس میں فائدہ ومصلحت اور ان کی والدہ کے لیے راحت و سکون کا باعث ہے جو اپنے اوپر آپڑنے والی مصیبت کے سبب اپنے بچوں کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پارہی ہیں۔ نوٹ: یہ بات معلوم ہے کہ مصیبت کے وقت سر منڈانا جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے صالقہ، حالقہ اور شاقہ پر لعنت فرمائی“۔ حالقہ اس عورت کو کہتے ہیں جو مصیبت کے وقت اپنے بال منڈا دیتی ہے۔ شاقہ وہ عورت ہے جو کسی مصیبت کے آنے پر اپنے کپڑوں کو پھاڑتی ہے۔ اور صالقہ اس عورت کو کہا جاتا ہے جو بوقت مصیبت با آواز بلند بین کرتی ہے۔ لیکن جعفر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بچوں کے بال منڈانے کا مقصد یہ تھا کہ ان کی ماں ان کے سر کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پا رہی تھیں۔ چنانچہ نبی ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں جوئیں نہ پڑ جائیں اس لئے آپ ﷺ نے انہیں مونڈنے کا حکم دیا۔ یہ مونڈنا مصیبت سے متاثر ہو کر نہیں تھا۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: أنه عندما استشهد جعفر بن أبي طالب في غزوة مؤتة، أمهل النبي صلى الله عليه وسلم أهله ثلاثا من أجل أن تَطيب نَفوسهم ويذهب ما في نفوسهم من الحزن والأسى، ثم قال لهم: "لا تَبْكُوا على أَخِي بعد اليوم" أي نهاهم عن البكاء بعد ثلاثة أيام؛ لأن الصدمة الأولى وزمن الحزن لا يطول ولا يستمر. والنهي هنا: للتنزيه لإباحة البكاء بعد ثلاثة أيام ما لم يقترن به محرم. ثم قال: «ادعوا لي بَنِي أخِي» وهم محمد وعبد الله وعوف أولاد جعفر، قال عبد الله: "فجيء بِنَا كأننا أفْرُخٌ" الفَرَخ ولد الطائر، وذلك لما أصابهم من الحزن على فقد والدهم. قال: "ادعوا لي الحلَّاق. فأمره، فَحَلَق رؤوسنا" أي أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بحلق رؤوسهم فحُلقت، لما رأى من اشتغال أمهم أسماء بنت عميس رضي الله عنها عن ترجيل شعورهم بما أصابها من قتل زوجها في سبيل الله فأشفق عليهم من الوَسَخ والقمل، فإذا أزيل صار في ذلك فائدة ومصلحة وراحة لأمهم التي جاءها ما يشغلها عن العناية بشعر أولادها. تنبيه: معلوم أن الحلق عند المصيبة لا يجوز، وقد جاء في الحديث: (لعن الرسول صلى الله عليه وسلم الصَّالقة والحَالقة والشَّاقة). والحالقة: التي تحلق شعرها عند المصيبة، والشاقة: التي تشق ثوبها عند المصيبة، والصالقة: التي ترفع صوتها عند المصيبة، والحلق لأولاد جعفر ليس اعتراضا على موته، ولكن المقصود من هذا الحَلق لأولاد جعفر بعد موته -رضي الله تعالى عنه وأرضاه- هو كون أمهم كانت منشغلة عن العناية برؤوسهم، فخشي أن يُصيبهم شيء من القَمْل فأمر بحلق رءوسهم -صلوات الله وسلامه وبركاته عليه-، ولم يكن الحلق تأثرًا بالمصيبة.

  • جواز حلق جميع شعر الرأس، خاصة للصبيان.
  • جواز حلق شعر الرأس في غير حج وعمرة.
  • استحباب مواساة أهل الميت، خاصة من استشهد في سبيل الله، وأن يدعوهم إلى فعل ما يتفاءل به لإزالة الحُزن وتَفْرِيج الكَرْب.
  • جواز البكاء على الميت من غير فعل محرم، كشَقِّ الجِيُوب ولَطْمِ الخُدود، وجواز الحداد عليه لمدة ثلاثة أيام، ولا يجوز أكثر من ذلك لغير الزوجة.
  • النهي عن البكاء على الميت بعد ثلاثة أيام، إلا أن النهي للتنزيه.
  • الحث على كفالة اليتيم والرفق به.
  • المؤمنون إخوة في الله.
  • منزلة عبد الله بن جعفر عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
  • تحمل الحديث حال الصِّغر والتحديث به في الكِبَر.
  • جواز تأخير التعزية إلى اليوم الثالث.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید