حدیث

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سر کے کچھ جصے کا بال مونڈنے اور کچھ حصے کا بال چھوڑ دینے سے منع فرمایا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن ابن عمر رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقَزَعِ.

ترجمہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنما سے روایت ہے کہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سر کے کچھ جصے کا بال مونڈنے اور کچھ حصے کا بال چھوڑ دینے سے منع فرمایا ہے۔

تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سر کے کچھ جصے کا بال مونڈنے اور کچھ حصے کا بال چھوڑ دینے سے منع فرمایا ہے۔ یہ ممانعت چھوٹے بڑے سبھی مردوں کے لیے ہے۔ رہی بات عورتوں کی، تو ان کوسر کے بال مونڈنے کی اجازت نہیں ہے۔

فوائد

  • شریعت اسلامیہ انسان کی ظاہری شکل و صورت پر بھی توجہ دیتی ہے۔
تشریح: العربية

نَهى النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن حَلْقِ بَعض شَعر الرأس وتركِ بعضه. والنهيُ عامٌّ للذكور الصغار والكبار، أما المرأةُ فليس لها أن تَحلِقَ شعرَ رأسِها.

  • اهتمام الشريعة الإسلامية بِمَظْهَرِ الإنسان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید