حدیث

جو بھی مرنے والا مر جاتا ہے تو اس پر رونے والے کھڑے ہوکر کہتے ہیں: ہائے پہاڑ! ہائے میرے سردار! یا اس طرح کے اور الفاظ۔ تو اس مرنے والے پر دو فرشتے متعین کردیے جاتے ہیں جو اسے سینے پر مکے مارتے ہیں (اور کہتے ہیں): کیا تو ایسا ہی تھا؟

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي موسى رضي الله عنه مرفوعاً: «ما من ميِّت يموت فيقوم باكِيهم فيقول: واجَبَلَاه، واسَيِّدَاه، أو نحو ذلك إلا وُكِّلَ به مَلَكَان يَلْهَزَانِه: أهكذا كُنت؟».

ترجمہ

ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی مرنے والا مر جاتا ہے تو اس پر رونے والے کھڑے ہوکر کہتے ہیں: ہائے پہاڑ! ہائے میرے سردار! یا اس طرح کے اور الفاظ۔ تو اس مرنے والے پر دو فرشتے متعین کردیے جاتے ہیں جو اسے سینے پر مکے مارتے ہیں (اور کہتے ہیں): کیا تو ایسا ہی تھا؟“

تشریح

مسلمان کی جب وفات ہوتی ہے اور كوئی اس کی میت پر کھڑا ہو کر روتا اور نوحہ کرتا ہے اورجھوٹ موٹ ہی کہتا جاتا ہے کہ مرنے والا اس کے لئے پہاڑ کی مانند تھا جس کی طرف وہ مصائب میں رجوع کیا کرتا تھا اور یہ کہ وہ اس کا سہارا اور پناہ گاہ تھا یا اس طرح کی دیگر باتیں کرتا ہے تو اس مرنے والے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کے سینے پر مارتے ہوئے اس سے مذاق کے طور پر پوچھتے ہیں : کیا تم ایسے ہی تھے جیسے کہا جا رہا ہے؟

تشریح: العربية

أن المسلم إذا مات، وقام أحد يبكي عليه وينوح ويخبر بأن هذا الميت بالنسبة له أو لها كالجبل تأوي إليه عند الشدائد، وأنه كان له سنداً وملجأ، أو نحو ذلك؛ إلا جاء ملكان للميت يدفعانه في صدره ويسألانه سؤال المتهكم: هل أنت كما قيل؟

  • النهي عن النَّدب والنياحة على الميت، وأن ذلك مما يسبب له الأذى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید