ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن النعمان بن بشير رضي الله عنهما قال: أُغْمِي على عبد الله بن رواحة رضي الله عنه فجعلت أُخْتُه تبكي، وتقول: واجَبَلاهُ، واكذا، واكذا: تُعَدِّدُ عليه. فقال حين أفَاق: ما قُلْتِ شيئا إلا قِيل لي أنت كذلك؟
ترجمہ
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر(ایک مرتبہ کسی مرض میں) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن رونے لگیں ۔ اور کہنے لگیں: ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور! ہائے میرے ایسے اور ویسے! ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے شمار کرنے لگیں۔ جب عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انھوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے؟!
تشریح
نعمان بن بشیر نے فرمایا کہ عبداللہ بن رواحہ بیمار ہوئے اور مرض کی شدت کی وجہ سے بے ہوش گیے۔ ان کی بہن نے جب ان کو اس حالت میں دیکھا تو سمجھا کہ وہ فوت ہو گیے ہیں تو اس نے ماتم کرتے ہوئے رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا ’واجبلاہ‘ یعنی گویا وہ ان کے لیے ایک پہاڑ کی مانند تھے کہ جس میں پہاڑی راستے پر کسی حادثہ کی صورت میں بچاؤ کے لیے ــــــــــــ پناہ لی جا سکتی ہو۔ اس طرح اُس نے اُن کے مختلف امور کی نسبت اور اُن کے محاسن و خصوصیات کا تذکرہ دورِ جاہلیت کے انداز میں شروع کر دیا۔ جب انھیں اپنی بے ہوشی سے افاقہ ہوا تو انھوں نے اپنی بہن کو بتایا کہ انھیں کیا تکلیف پہنچی تھی۔ انہیں یہ کہا گیا کہ:کیا تو پہاڑ ہے جس سے پناہ لی جاتی ہے؟ کیا تو ایسا ایسا ہے جیسے تیرے اوصاف اور خوبیاں بیان کی جار ہی ہیں؟ اپنی بے ہوشی کی کیفیت کے متعلق اپنی بہن کو بتایا اور یہ انداز دھمکانے اور سخت وعید کرنے کے قبیل سے ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ فوت ہوئے تو انھوں نے ماتم نہ کیا اور لوگوں کو بھی ماتم نہ کرنے کی نصیحت کی۔
تشریح: العربية
أخبر النعمان بن بشير رضي الله عنهما أن عبد الله بن رواحة رضي الله عنه أصيب بمرض وأغمي عليه بسبب شِدَّة المرض، فلما رأته أخته رضي الله عنها على تلك الحال ظنت أنه قد مات، فجعلت تبكي وتندب وتقول واجَبَلاهُ" أي أنه- رضي الله عنه- كان لها كالجبل تأوي إليه عند طروق الحوادث فتعتصم به، ومستندًا تستند إليه في أمورها و تذكره بمحاسنه وشمائله على طريقة أهل الجاهلية، فلما أفاق من غيبوبته أخبرها عما حصل له، وأنه قيل له: أأنت جبل يلجؤون إليك، أأنت كذا وكذا كما يصفونك، فكل ما عددته من صفات أُخبر بها رضي الله عنه في غيبوبته، وذلك على سبيل التَّهكم، والوعيد الشديد، وجاء في رواية أنه لما مات لم تندبه واتعظت بذلك.
- النهي عن الندب للميت وغيره، وخاصة إذا كان بصفات ليست في المندوب، وهو إساءة له؛ لأنه يُقرَّع على ذلك ويُلام عليه.
- الميت يعذب بنوح أهله عليه، أي يتألم ويتضايق بعد حال موته.
- تحريم ادعاء صفات ليست في المَرء، سواء من قبل نفسه أو من قبل غيره.