حدیث

نبی ﷺ فالِ بد نہیں لیا کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن بُريدة رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يَتَطَيَّر.

ترجمہ

بریدہ رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ فالِ بد نہیں لیا کرتے تھے۔

تشریح

نبی ﷺ کسی بھی شے سے بالکل بھی بد شگونی نہیں لیا کرتے تھے۔بدشگونی سے مراد ہر وہ شے ہے جو انسان کو کسی کام سے روک دے، جیساکہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے۔ اسلام نے آتے ہیں بدشگونی و بدفالی اور پانسے کے تیروں سے قسمت معلوم کرنے سے منع کردیا اور استخارہ کو اس کا بدل مشروع کیا۔

تشریح: العربية

كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يتشاءم من شيء مطلقًا، والمراد التشاؤم الذي يصد عن عمل شيء كما كان يفعله أهل الجاهلية، وقد جاء الإسلام بالنهي عن التشاؤم والتطير والاستقسام بالأزلام، وشرع لهم بديلًا منها وهو الاستخارة.

  • عدم التَّطير، والحث على الاقتداء به -صلى الله عليه وسلم- في عدم التَّطير من أي شيء، والتفاؤل في كلِّ شيء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید