حدیث

رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أسيد بن أبي أسيد التابعي، عن امرأة من المبايعات، قالت: كان فيما أخذ علينا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم في المعروف الذي أخذ علينا أن لا نعصيه فيه: أن لا نَخْمِشَ وجهًا، ولا نَدْعُوَ وَيْلًا، ولا نَشُقَّ جَيْبًا، وأن لا نَنْشُرَ شَعْرًا.

ترجمہ

اُسید بن ابی اسید تابعی ایک خاتون سے بیان کرتے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔

تشریح

نبی ﷺ بیعت کرتے وقت صحابیات سے اس بات کا عہد لیتے تھے کہ وہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی اور یہ بھی کہ عورت اپنا چہرہ نہ نوچے، یا اپنا چہرہ یا اپنے رخسار کو نہ پیٹے اور نوحہ کر کے اپنی آواز بلند نہ کرے جس سے کہ روکا گیا ہے، اپنے کپڑے نہ پھاڑے اور نہ اپنے بال بکھیرے اور نہ مصیبت کے وقت اسے نوچے۔

تشریح: العربية

كان النبي -عليه الصلاة والسلام- يأخذ العهد من الصحابيات عند المبايعة بأن لا يعصينه، ومن ذلك: ألا تخدش المرأة وجهها، أو تضرب وجهها، أو تضرب خدها، ولا ترفع صوتها بالنياحة المنهي عنها، ولا تمزق ثيابها، وألا تنفش شعرها وتمزقه عند نزول المصائب.

  • أن هذه الأفعال من خصال الجاهلية، وأنها من النياحة المنهي عنها.
  • صوت المرأة ليس بعورة، إذا لم يكن فيه خضوع بالقول كما نهى الله سبحانه النساء عن ذلك.
  • جهالة الصحابي لا تَقدح في صحة الحديث.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید