ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تَدْخُلُ المَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ».
ترجمہ
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کوئی کتا یا تصویر ہو"۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتا یا کہ رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہيں ہوتے، جس میں کتا یا روح والی چیزوں کی تصویر ہو۔ کیوں کہ روح والی چیزوں کی تصویر بنانا ایک بہت بڑا گناہ، تخلیق کے عمل میں اللہ کی ہم سری کا دعوی اور شرک کا ایک وسیلہ ہے۔ بعض تصویریں تو ان چیزوں کی بھی ہوا کرتی ہيں، جن کو اللہ کو چھوڑ کر پوجا جاتا ہے۔ جس گھر میں کتا ہو، اس میں فرشتے داخل اس لیے نہیں ہوتے کہ کتا گندگی بہت زیادہ کھاتا ہے اور کچھ کتے شیطان بھی کہلاتے ہیں جب کہ فرشتے شیطان کی ضد ہیں۔ اور اس لئے بھى کہ کتے کے جسم سے بدبو آتی ہے اور فرشتوں کو بدبو سے نفرت ہے۔ ایک وجہ یہ بھى ہے کہ کتا پالنا منع ہے، اس لیے کتا پالنے والے کو سزا کے طور پر اس کے گھر میں، رحمت کے فرشتوں کے دخول، اس کے حق میں ان کے دعا کرنے اور مغفرت طلبی، اس پر اور اس کے گھر میں ان کی برکت کی دعا اور اسے شیطان کی ایذا رسانیوں سے محفوظ رکھنے سے، محروم کر دیا جاتا ہے۔
فوائد
- کتا پالنے کی ممانعت۔ ہاں مگر شکار، مویشی یا کھیتی باڑی کے لئے کتے پالنے کی اجازت ہے۔
- تصویر رکھنا ان برائیوں میں سے ایک ہے جن سے فرشتے نفرت کرتے ہیں۔ تصویروں کی مکان میں موجودگی رحمت سے محرومی کا باعث ہے۔ اسی طرح کتے کی موجودگی رحمت سے محرومی کا باعث ہے۔
- جو فرشتے کتے اور تصویر والے گھر میں داخل ہونے سے گریز کرتے ہیں، وہ رحمت کے فرشتے ہیں۔ جہاں تک اعمال لکھنے پر مامور اور دوسری ذمے داریاں نبھانے والے فرشتوں کی بات ہے، جیسے موت کا فرشتہ وغیرہ، تو وہ ہر گھر میں داخل ہوتے ہيں۔
- روح والی تصویر دیوار وغیرہ پر لٹکانا حرام ہے۔
- خطابی کہتے ہيں: فرشتے ایسے گھر میں داخل ہونے سے گریز کر تے ہيں، جس میں ایسا کتا ہو جسے پالنا حرام ہے اور ایسی تصویر ہو جسے بنانا اور رکھنا حرام ہو۔ جن کتوں کا پالنا حرام نہیں ہے، جیسے شکاری کتا اور کھیتی اور مویشی کی دیکھ بھال کرنے والا کتا اور جن تصویروں کا رکھنا حرام نہيں ہے، جیسے چٹائی اور تکیہ وغیرہ پر بنی ہوئی پامال تصویریں، تو وہ فرشتوں کے عدم دخول کا سبب نہیں بنتیں۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ ملائكة الرحمة لا تدخل بيتًا فيه كلبٌ ولا صورة ذَوَات الأرواح؛ وذلك أن صورة ما فيه روح: معصية فاحشة، وفيها مضاهاة لخلق الله، ووسيلة من وسائل الشرك، وبعضها صورة ما يعبد من دون الله، وأما سبب امتناعهم من بيت فيه كلب: لكثرة أكله النجاسات، ولأن بعضها يُسمى شيطانًا؛ والملائكة ضد الشياطين، ولقبح رائحة الكلب؛ والملائكة تكره الرائحة القبيحة، ولأنها منهيٌّ عن اتخاذها؛ فعُوقِب متخذها بحرمانه دخول ملائكة الرحمة بيته، وصلاتها فيه، واستغفارها له، وتبريكها عليه وفي بيته، ودفعها أذى الشيطان عنه.
- تحريم اقتناء الكلب إلا كلب صيد أو ماشية أو زرع.
- اتخاذ الصور من الأمور الخبيثة التي تَنْفِر منها الملائكة، ويكون وجودها في المكان سبب لحرمان الرحمة، ومثل ذلك الكلب.
- الملائكة الذين لا يدخلون بيتًا فيه كلب أو صورة هم ملائكة الرحمة، وأما الحَفَظَة وغيرُهم ممن لهم وظيفة كمَلَك الموت فيدخلون في كل بيت.
- تحريم تعليق صور ذوات الأرواح على الجدران وغيرها.
- قال الخطابي: وإنما لا تدخل الملائكة بيتًا فيه كلب أو صورة مما يحرم اقتناؤه من الكلاب والصور، فأما ما ليس بحرام من كلب الصيد والزرع والماشية والصورة التي تمتهن في البساط والوسادة وغيرهما فلا يمتنع دخول الملائكة بسببه.