حدیث

جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو، جسے وہ ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو جب ذو الحجہ کا چاند نکل آئے، تو وہ قربانی کرنے سے پہلے اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَن أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضي الله عنها قَالت: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ».

ترجمہ

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو، جسے وہ ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو جب ذو الحجہ کا چاند نکل آئے، تو وہ قربانی کرنے سے پہلے اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، وہ ذوالحجہ کا چاند نکل جانے کے بعد قربانی کر لینے تک اپنے سر، بغل اورمونچھ وغیرہ کے بال نہ کاٹے اور نہ ہی ہاتھ پاؤں کے ناخن کاٹے۔

فوائد

  • جس نے عشرہ ذی الحجہ کے داخل ہونے کے بعد قربانی کرنے کی نیت کی، وہ نیت کرنے کے بعد سے قربانی کرنے تک مذکورہ امور سے باز رہے۔
  • اگر کوئی پہلے دن قربانی نہ کرے، تو وہ مذکورہ امور سے رکا رہے گا یہاں تک کہ وہ تشریق کے ایام میں کسى دن قربانی کرلے۔
تشریح: العربية

أَمَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم مَن أراد أنْ يَذبح أضحية ألَّا يأخذَ مِن شَعَر رأسه أو إِبْطِه أو شاربه أو غيرها ولا مِن أظفار يده أو رجله شيئًا إذا ظَهَر هلالُ ذي الحجة حتى يضحِّي.

  • مَن نَوَى أن يضحي بعد دخول العشر فيبدأ الإمساك المذكور من حين نوى حتى يضحِّي.
  • إذا لم يُضَحِّ في اليوم الأول فيبقى مُمْسِكًا حتى يضحي في أيِّ يومٍ من أيام التشريق.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید