حدیث

نبی ﷺ نے جمعہ کے دن، جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو، گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن معاذ بن أنس الجهني رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم نَهى عن الحِبْوَةِ يوم الجمعة والإمام يخطب.

ترجمہ

معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن، جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو، گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔

تشریح

یہ حدیث منسوخ ہے جیسا کہ امام ابو داود نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ: معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ کے دوران ”حبوہ“ سے منع فرمایا ہے۔ ”حبوہ“ کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنی رانوں کو اپنے پیٹ سے اور پنڈلیوں کو رانوں سے ملا لے، اور خود کو تسمے یا پگڑی وغیرہ سے باندھ لے۔ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران اس طرح بیٹھنے سے دو وجہوں سے منع فرمایا ہے: اول: اس طرح بیٹھنے سے اسے نیند آ سکتی ہے اور یوں وہ سو جانے کی وجہ سے خطبہ سننے سے محروم ہو جائے گا۔ دوم: اس سے ستر کے کھل جانے کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ زیادہ تر عرب لوگوں پر ایک ہی کپڑا ہوتا تھا۔ چنانچہ اگر وہ حبوہ باندھتا تو اس کا ستر کھل جاتا۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے اس سے بالکل ہی منع فرما دیا۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی ایک کپڑے میں اس طرح حبوہ باندھ کر بیٹھے کہ اس کی شرم گاہ ظاہرہو۔ یہ حکم اس شخص کے لیے خاص ہے جس نے ایک کپڑا پہنا ہوا ہے اور یہ حکم ہر وقت میں لاگو ہوگا۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حبوہ باندھنا عربوں کی ان کی مجلسوں میں ایک عادت تھی، اگر اس کے ساتھ اس کی کچھ شرم گاہ ظاہر ہو جائے تو وہ حرام ہے۔ البتہ اگر شرم گاہ کے کھلنے کا خوف نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ اگر ممانعت کسی معقول علت کی بنا پر ہے اور وہ علت ختم ہوگئی تو ممانعت بھی ختم ہو جائے گی۔ بلکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عباد بن تمیم کی حدیث سے ثابت ہے جسے وہ اپنے چچا کے واسطے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ آپ ﷺ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھے ہوئے تھے۔

تشریح: العربية

هذا الحديث منسوخ كما أشار إليه أبو داود، ومعناه أن معاذ بن أنس رضي الله عنه يخبر عن نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الحِبْوَةِ يوم الجمعة وقت الخطبة. والحِبْوَةِ: أن يَضم الإنسان فخذيه إلى بطنه وساقيه إلى فخذيه ويربط نفسه بسير أو عمامة أو نحوها، وقد نهى النبي صلى الله عليه وسلم عنها والإمام يخطب يوم الجمعة لسببين: الأول: أنه ربما تكون هذه الحبوة سببًا لجلب النوم إليه فينام عن سماع الخطبة. والثاني: أنه مظنة لانكشاف العورة؛ لأن الغالب على العرب أن يكون على أحدهم الثوب الواحد، فإذا احتبى بَدَت عورته، ولهذا جاء النهي عنه كما في صحيح مسلم: "وأن يحتبي في ثوب واحد كاشفاً عن فرجه"، فهذا خاص بمن عليه ثوب واحد وعام في كل وقت. قال النووي رحمه الله : "وكان هذا الاحتباء عادة للعرب في مجالسهم، فإن انكشف معه شيء من عورته فهو حرام". وأما إذا أمن ذلك فإنه لا بأس بها؛ لأن النهي إذا كان لعلة معقولة فزالت العلة فإنه يزول النهي، كما ثبت عنه صلى الله عليه وسلم في الصحيحين من حديث عبَّاد بن تميم، عن عمه أنه "رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم مستلقيًا في المسجد، واضعًا إحدى رجليه على الأخرى".

  • كراهية الاحتباء أثناء خُطبة الجمعة؛ لأنه مَظِنة جَلْب النوم فيفوت استماع الخطبة وهو واجب، وقد ينتقض الوضوء الذي هو شرط لصحة الصلاة.
  • على المسلم أن يكون على هيئة تسترعي انتباهه للخطيب يوم الجمعة ليحصل المقصود من الخطبة وليخرج بفائدة منها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید