حدیث

نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ ہی اپنے آبا و اجداد کی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي، وَلَا بِآبَائِكُمْ».

ترجمہ

عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ ہی اپنے آبا و اجداد کی۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم طواغی کی قسم کھانے سے منع فرما رہے ہیں۔ طواغی طاغیۃ کی جمع ہے۔ مراد وہ بت ہیں، جن کی اللہ کے بجائے مشرکین پوجا کیا کرتے تھے۔ یہ بت دراصل ان کی سرکشی اور کفر کا سبب تھے۔ اسی طرح آپ آبا واجداد کی قسم کھانے سے منع فرما رہے ہیں۔ کیوں کہ عرب کے لوگ اپنے آبا واجداد کی قسم ان پر فخر اور ان کی عزت کے طور پر کھایا کرتے تھے۔

فوائد

  • قسم بس اللہ اور اس کے اسما وصفات کی کھانا جائز ہے۔
  • طاغوتوں، آبا واجداد، پیشواؤں، بتوں اور ان جیسی باطل چیزوں کی قسم کھانا جائز نہيں ہے۔
  • غیراللہ کی قسم کھانا ویسے تو شرک اصغر ہے، لیکن دل میں اس کی اللہ کی جیسی تعظیم بس جائے یا اسے عبادت کا سزاوار سمجھ لیا جائے، تو یہ شرک اکبر ہو جاتا ہے۔
تشریح: العربية

يَنْهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن الحَلِف بالطواغي، جمع طاغية، وهي الأصنام التي كان المشركون يَعبدونها مِن دون الله، وهي سببُ طغيانِهم وكفرِهم، وينهى صلى الله عليه وسلم عن الحلف بالآباء؛ حيث كان من عادة العرب في الجاهلية أن يَحلفوا بآبائهم افتخارًا وتعظيمًا.

  • الحَلف لا يجوز إلا بالله وأسمائه وصفاته.
  • تحريم الحلف بالطواغيت، والآباء والرؤساء والأصنام، وما شابَهَها من كل باطل.
  • الحلف بغير الله من الشرك الأصغر، وقد يكون شركًا أكبر، إذا قام بقلبه تعظيم المحلوف به وأنه يعظِّمه كما يعظِّم الله أو أنه يعتقد فيه شيئًا من العبادة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید