حدیث

جس نے قسم اٹھائی اورکہا کہ میں اسلام سے بری ہوں اگر وہ جھوٹا ہو تو وہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا اور اگر سچا ہوا تو پھر بھی سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہ لوٹے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن بريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من حَلف فقال: إنِّي بَرِيءٌ من الإسلام، فإن كان كاذبا، فهو كما قال، وإن كان صَادقا، فَلَنْ يَرْجِعَ إلى الإسلام سَالِمًا».

ترجمہ

بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم اٹھائی اورکہا کہ میں اسلام سے بری ہوں اگر وہ جھوٹا نکلا تو بھی وہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا اور اگر سچا ہوا تو پھر سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہ لوٹ سکے گا“۔

تشریح

جس نے قسم اٹھائی اور کہا کہ وہ اسلام سے بری ہے یا پھر اس نے کہا کہ وہ یہودی، عیسائی، کافر اور ملحد ہے، تو اس کا معاملہ دو صورتوں سے خالی نہ ہو گا: پہلی صورت: اس نے جو قسم اٹھائی اس میں وہ جھوٹا ہو۔ مثلاً وہ قسم اٹھائے کہ اگر ایسا اور ایسا ہے تو میں اسلام سے بری ہوں حالانکہ وہ جو بات بتا رہا ہے اس میں جھوٹا ہو مثلاً اگر اس نے یہ خبر دی کہ زید آج سفر سے واپس آ گیا ہے اور قسم اٹھائی کہ وہ اگر جھوٹا ہو تو وہ اسلام سے بری ہوجائے یا یہودی، عیسائی یا مشرک ہو جائے حالانکہ اسے بخوبی علم ہو کہ وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا یعنی اسلام سے بری ہوجائے یا پھر یہودی اور عیسائی ہو جائے گا۔ دوسری صورت: اس نے جو بات کہی وہ اس میں سچا ہو۔ مثلا اس نے کہا کہ زید آج سفر سے واپس آ گیا ہے یا یہ کہ اس نے یہ چیز نہیں کی اور اس پر وہ قسم اٹھائے کہ (اگر ایسا نہ ہو تو) وہ اسلام سے بری ہو جائے یا یہودی یا عیسائی ہو جائے اور وہ جس بات پر قسم اٹھا رہا ہے اس میں وہ سچا بھی ہو تو اس صورت میں بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ ان الفاظ کی وجہ سے اس کے اسلام میں کمی واقع ہو جائے گی کیونکہ یہ بہت برے اور قبیح الفاظ ہیں۔

تشریح: العربية

من حلف فقال: هو بَرِيءٌ من الإسلام، أو قال: هو يهودي أو نصراني أو كافر أو ملحد، فأمره لا يخلو من حالين: الحال الأولى: أن يكون كاذبًا فيما حلف عليه، كأن يحلف مثلا: هو بريء من الإسلام إن كان الأمر كذا وكذا، وهو كاذب فيما يخبر به، كما لو أخبر بأن زيدا قدم اليوم من السَّفر وحلف على البراء من الإسلام أو هو يهودي أو نصراني أو مشرك، وهو يعلم كَذب نفسه، فهو كما قال أي من البراءة من الإسلام أو يهودي أو نصراني. الحال الثانية: أن يكون صادقا فيما قال، كما لو حلف على البراءة من الإسلام أو هو يهودي أو نصراني أن زيدًا قَدِم اليوم من سفره أو أنه لم يفعل هذا الشيء، وهو صادق فيما حلف عليه، فإنه في هذه الحال لنْ يَرْجِعَ إلى الإسلام سَالِمًا، كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ، بل ينقص كمال إسلامه بما صَدَر منه من هذا اللفظ لشناعته وقبحه.

  • النهي عن الحلف بهذه الصيغة وأشباهها، كأن يقول: هو كافر إن فعل كذا، وهو على دِين كذا إن كان كذا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید