العصر

عصر

3 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)

تفسیر سورۂ عصر

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    وَٱلْعَصْرِ

    زمانے کی قسم.[1]

    حواشی

    [1] زمانے سے مراد، شب وروز کی یہ گردش اور ان کا ادل بدل کر آنا ہے۔ رات آتی ہے تو اندھیرا چھا جاتاہے اور دن طلوع ہوتا ہے تو ہرچیز روشن ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں کبھی رات لمبی، دن چھوٹا ور کبھی دن لمبا، رات چھوٹی ہو جاتی ہے۔ یہی مرور ایام، زمانہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور کاریگری پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لئے رب نے اس کی قسم کھائی ہے۔ یہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے لیکن انسانوں کے لئے اللہ کی قسم کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  2. 2

    إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَفِى خُسْرٍ

    بیشک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے.[1]

    حواشی

    [1] یہ جواب قسم ہے۔ انسان کا خسارہ اور ہلاکت واضح ہے کہ جب تک وہ زندہ رہتا ہے، اس کے شب وروز سخت محنت کرتے ہوئے گزرتے ہیں پھر جب موت سے ہم کنار ہوتا ہے تو موت کے بعد بھی آرام وراحت نصیب نہیں ہوتی، بلکہ وہ جہنم کا ایندھن بنتا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  3. 3

    إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْحَقِّ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ

    سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل[1] کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی[2] اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی.[3]

    حواشی

    [1] ہاں اس خسارے سے وہ لوگ محفوظ ہیں جو ایمان اور عمل صالح کے جامع ہیں، کیوں کہ ان کی زندگی چاہے جیسی بھی گزری ہو، موت کے بعد وہ بہرحال ابدی نعمتوں اور جنت کی پرآسائش زندگی سے بہرہ ور ہوں گے۔ آگے اہل ایمان کی مزید صفات کا تذکرہ ہے۔ [2] یعنی اللہ کی شریعت کی پابندی اور محرمات ومعاصی سے اجتناب کی تلقین۔ [3] یعنی مصائب وآلام پرصبر، احکام وفرائض شریعت پر عمل کرنے میں صبر، معاصی سے اجتناب پر صبر، لذات وخواہشات کی قربانی پر صبر، صبر بھی اگرچہ تواصی بالحق میں شامل ہے، تاہم اسے خصوصیت سےالگ ذکر کیا گیا، جس سے اسکا شرف وفضل اور خصال حق میں اس کا ممتاز ہونا واضح ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتہمزہالهمزة

قرآن کا متن: تنزیل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید