الماعون

ماعون

7 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)

تفسیر سورۂ ماعون

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    أَرَءَيْتَ ٱلَّذِى يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ

    کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟[1]

    حواشی

    [1] رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو خطاب ہے اور استفہام سے مقصد اظہار تعجب ہے۔ رویت معرفت کے مفہوم میں ہے اور دین سے مراد آخرت کا حساب اور جزا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کلام میں حذف ہے۔ اصل عبارت ہے (کیا تو نےاس شخص کو پہچانا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے؟ آیا وہ اپنی اس بات میں صحیح ہے یا غلط؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  2. 2

    فَذَٰلِكَ ٱلَّذِى يَدُعُّ ٱلْيَتِيمَ

    یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے.[1]

    حواشی

    [1] اس لئے کہ ایک توبخیل ہے۔ دوسرا، قیامت کا منکر ہے، بھلا ایسا شخص یتیم کے ساتھ کیوں کر حسن سلوک کر سکتا ہے؟ یتیم کے ساتھ تو وہی شخص اچھا برتاؤ کرے گا جس کے دل میں مال کے بجائے انسانی قدروں اور اخلاقی ضابطوں کی اہمیت ومحبت ہوگی۔ دوسرے اسے اس امر کا یقین ہو کہ اس کے بدلے میں مجھے قیامت والے دن اچھی جزا ملے گی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  3. 3

    وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ

    اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا.[1]

    حواشی

    [1] یہ کام بھی وہی کرے گا جس میں مذکورہ خوبیاں ہوں گی ورنہ یہ یتیم کی طرح مسکین کو بھی دھکا ہی دے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  4. 4

    فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ

    ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  5. 5

    ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ

    جو اپنی نماز سے غافل ہیں.[1]

    حواشی

    [1] اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو نماز یا تو پڑھتے ہی نہیں۔ یا پہلے پڑھتے رہے ہیں، پھر سست ہوگئے یا نماز کو اس کے اپنے مسنون وقت میں نہیں پڑھتے، جب جی چاہتاہے پڑھ لیتے ہیں یا تاخیر سے پڑھنے کو معمول بنا لیتے ہیں یا خشوع خضوع کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ یہ سارے ہی مفہوم اس میں آجاتے ہیں، اس لئے نماز کی مذکورہ ساری ہی کوتاہیوں سے بچنا چاہئے۔ یہاں اس مقام پر ذکر کرنے سے یہ بھی واضح ہے کہ نماز میں ان کی کوتاہیوں کے مرتکب وہی لوگ ہوتے ہیں جو آخرت کی جزا اور حساب کتاب پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لئے منافقین کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلا قَلِيلا (النساء: 142) ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  6. 6

    ٱلَّذِينَ هُمْ يُرَآءُونَ

    جو ریاکاری کرتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ایسے لوگوں کو شیوہ یہ ہوتا ہے، کہ لوگوں کے ساتھ ہوئے تو نماز پڑھ لی، بصورت دیگر نماز پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے، یعنی صرف نمود ونمائش اور ریاکاری کے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  7. 7

    وَيَمْنَعُونَ ٱلْمَاعُونَ

    اور برتنے کی چیز روکتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] مَعْنٌ : شَيْءٌ قَلِيلٌ کہتے ہیں۔ بعض اس سے مراد زکوٰۃ لیتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی اصل مال کے مقابلے میں بالکل تھوڑی سی ہی ہوتی ہے، ( ڈھائی فی صد ) اور بعض اس سے گھروں میں برتنے والی چیزیں مراد لیتے ہیں جو پڑوسی ایک دوسرے سےعاریتاً مانگ لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ گھریلو استعمال کی چیزیں عاریتاً دے دینا اور اس میں کبیدگی محسوس نہ کرنا اچھی صفت ہے اور اس کے برعکس بخل اور کنجوسی برتنا، یہ منکرین قیامت ہی کا شیوہ ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتکوثرالكوثر

قرآن کا متن: تنزیل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید