حدیث

یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس رضي الله عنه : أن اليَهُود كانوا إذا حَاضَت المرأة فيهم لم يؤَاكِلُوها، ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت فسأل أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم النبي صلى الله عليه وسلم فأنزل الله تعالى: {ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض} [البقرة: 222] إلى آخر الآية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اصْنَعُوا كلَّ شيء إلا النكاح». فَبَلغ ذلك اليهود، فقالوا: ما يُريد هذا الرَّجُل أن يَدع من أمْرِنا شيئا إلا خَالفَنَا فيه، فجاء أُسَيْدُ بن حُضَيْر، وعَبَّاد بن بِشْر فقالا يا رسول الله، إن اليهود تقول: كذا وكذا، فلا نُجَامِعُهُن؟ فَتغيَّر وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ظَنَنَا أن قد وجَد عليهما، فخرجا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّة من لَبَنٍ إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، فأَرسَل في آثَارِهِما فَسَقَاهُمَا، فَعَرَفَا أن لم يَجِد عليهما.

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ نبى ﷺ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے (اس بارے میں) دریافت کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222)۔ ”آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوائے صحبت کے تم سب کچھ کرو۔ یہ بات یہودیوں تک پہنچی تو وہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو ہر بات میں ہماری مخالفت ہی چاہتا ہے۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی لوگ ایسے ایسے کہہ رہے ہیں۔ تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے (ایام حیض میں) صحبت نہ کر لیا کریں؟ اس پر رسول اللہﷺ کا چہرہ بدل گیا یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض ہو گئے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں صحابی وہاں سے نکلے تو اس کے فوراً بعد نبی ﷺ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا۔ آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور ان دونوں کو دودھ پلایا۔ اس سے انہیں اندازہ ہو گیا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض نہیں ہوئے۔

تشریح

انس رضی اللہ عنہ بيان كر رہے ہیں کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ یعنی یہودی لوگ حائضہ عورت کو نہ تو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرتے، نہ ہی اس کا جھوٹا پانی پیتے اور نہ ہی اس کے ہاتھ کا بنا کھانا کھاتے تھے، کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق حائضہ عورت اور اس کا پسینہ ناپاک تھا۔ ” ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت“ یہاں مجامعت سے مراد رہائش اختیار کرنا اور مل جل کر رہنا ہے۔ جب عورت کو حیض آتا تو یہودی اس سے میل جول نہ رکھتے بلکہ اسے گھر سے نکال دیتے تھے جیسا کہ سنن ابی داود میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو اسے گھر سے نکال دیتے تھے۔ وہ نہ تو اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی گھر میں اس کے ساتھ رہتے تھے۔ ”صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے دریافت کیا“ یعنی اصحابِ رسول ﷺ کو جب یہودیوں کا حال معلوم ہوا کہ وہ مدتِ حیض میں عورتوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں تو انہوں نے نبی ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا۔ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222) ”آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے صحبت کے تم سب کچھ کر سکتے ہو“۔ شریعت نے ان کے ساتھ مل جل کر رہنے اور ان کے ساتھ کھانے پینے، انہیں چھونے، ان کے ساتھ ایک بستر میں سونے اور سوائے شرم گاہ میں وطی کرنے کے سب کچھ کرنا مباح کر دیا۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ ”سوائے جماع کے تم سب کچھ کرو“ اس ميں آیت کے اجمال کی وضاحت ہے۔ کیونکہ اعتزال کا لفظ مل جل کر رہنے، اکٹھے کھانے پینے اور ایک ساتھ رہنے جیسے سب معانی کو محیط ہے۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اعتزال سے مراد صرف اور صرف جماع (صحبت) کو ترک کرنا ہے۔ ”یہ بات یہودیوں تک پہنچی“یعنی یہودیوں تک یہ بات پہنچی کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو اجازت دے دی ہے کہ وہ مدتِ حیض میں اپنی بیویوں کے ساتھ سوائے وطی کے سب کچھ کر سکتے ہیں۔ تو وہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو ہر بات میں ہماری مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے۔ یعنی جب یہ ہمیں کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو اس کی مخالفت کا حکم دیتا ہے اور اس کا الٹ کرنے کو کہتا ہے۔ پس وہ ہر بات میں ہماری مخالفت کرنے کے درپے رہتا ہے۔ تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے آکر کہا: یا رسول اللہ! یہودی لوگ ایسے ایسے کہہ رہے ہیں۔ تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے (ایام حیض میں) جماع نہ کرلیا کریں؟۔ یعنی اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کے سامنے یہودیوں کی اس بات کا تذکرہ کیا جو انہوں نے اس وقت کہی تھی جب انہیں یہ علم ہوا تھا کہ نبی ﷺ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا ہے۔ پھر انھوں نے آپ ﷺ سے وطی کو بھی جائز ٹھہرا دینے کے بارے میں پوچھا تاکہ یہودیوں کی ہر چیز میں مخالفت ہو سکے۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ جب ہم نے عورتوں کے ساتھ میل جول رکھنے کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کی ہے اور اس کی بنا پر ہم ان کے ساتھ ملتے جلتے ہیں، ان کے ساتھ سوتے اور ان کے ساتھ اکٹھے کھاتے پیتے ہیں اور سوائے جماع کے ہر چیز کرتے ہیں تو کیوں نہ ہم ان سے جماع بھی کر لیا کریں تاکہ تمام امور میں ان کے مخالفت ہو سکے؟ ”تو رسول اللہﷺ کا چہرہ بدل گیا“ یعنی نبی ﷺ نے ان کے اجتہاد کی تائيد نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ غصے میں آگئے اور غصے کے آثار بھی آپ ﷺ کے چہرے پر ظاہر ہوگئے۔ کیونکہ ان کی بات شریعت کے برخلاف تھی۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222) ”حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“۔ اور آپ ﷺ نے وضاحت فرما دی کہ آیت میں مذکور اعتزال سے کیا مراد ہے اور وہ یہ کہ مدت حیض میں تمہارے لیے ان کے ساتھ جماع کرنا جائز نہیں ہے۔ ”یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض ہو گئے ہیں“ یعنی آپ ﷺ ان کی بات کی وجہ سے ان پر غصہ ہو گئے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں صحابی وہاں سے نکلے تو اس کے فوراً بعد نبی ﷺ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا۔ آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور ان دونوں کو دودھ پلایا۔ یعنی وہ دونوں نبی ﷺ کے پاس سے نکلے۔ اور ان کے نکلنے کے دوران ایک شخص نبی ﷺ کے لئے بطور تحفہ دودھ لے کر آیا۔ جب یہ تحفہ لے کر آنے والا شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو بلانے کے لیے ایک آدمی ان کے پیچھے بھیجا۔ جب وہ دونوں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اظہارِ شفقت اور انہیں یہ باور کرانے کے لیے کہ آپ ﷺ ان سے راضی ہیں انہیں یہ دودھ پلایا۔ ”پس انہیں معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ ان سے ناراض نہیں ہیں“ یعنی آپ ﷺ ان سے غصہ نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ اچھی نیت کے ساتھ کہا تھا۔ یا پھر (ابتدا ميں آپ ﷺ کو غصہ آیا) لیکن وہ غصہ جاری نہ رہا بلکہ ختم ہو گیا۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کے مکارمِ اخلاق اور آپ ﷺ کے اپنے صحابہ کے ساتھ لطف و مہربانی کا برتاؤ کرنے کا ایک مظہر ہے۔

تشریح: العربية

يخبر أنس رضي الله عنه : "أن اليَهُود إذا حَاضَت المرأة فيهم لم يؤَاكِلُوها ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت" يعني: أن اليهود كانوا يمتنعون من مشاركة المرأة الحائض على الطعام ولا يَشربون من سؤرها ولا يأكلون الطعام الذي هو من صنعها؛ لأنهم يعتقدون نجاستها ونجاسة عرقها. "ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت، المراد بالمُجامعة هنا: المُساكنة والمخالطة، فاليهود كانت المرأة إذا حاضَت اعتزلوها فلا يخالطوها، بل يخرجوها من البيت، كما في رواية أنس رضي الله عنه عند أبي داود : " أن اليهود كانت إذا حاضت منهم المرأة أخرجوها من البيت، ولم يُؤاكلوها ولم يُشَارِبُوها ولم يُجامعوها في البيت". "فسأل أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم النبي صلى الله عليه وسلم " أي أن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عندما علموا حال اليهود من اعتزال نسائهم زمن الحيض سألوا النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك. "فأنزل الله تعالى : (ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اصْنَعُوا كلَّ شيء إلا النكاح»"، فأجاز الشرع مُخالطتها ومُؤاكلتها ومشاربتها ومُلامَستها ومُضاجعتها، وأباح منها كل شيء إلا الوطء في الفَرْج. وقوله صلى الله عليه وسلم : "اصْنَعُوا كل شيء إلا النكاح" فيه بيان لمجمل الآية؛ لأن الاعتزال شامل للمجامعة والمخالطة والمؤاكلة والمُشاربة والمُصاحبة فبين النبي صلى الله عليه وسلم أن المراد بالاعتزال ترك الجماع فقط لا غير ذلك. "فَبَلغ ذلك اليهود" أي أن اليهود بلَغَهم أن النبي صلى الله عليه وسلم أجاز لأصحابه أن يفعلوا مع نسائهم زمن الحيض كل شيء إلا الوطء. "فقالوا: ما يُريد هذا الرَّجُل أن يَدع من أمْرِنا شيئا إلا خَالفَنَا فيه" يعني: إذا رآنا نعمل شيئا أمر بخلافه، وأرشد إلى خلافه، فهو يَحرص على أن يُخالفنا في كل شيء. "فجاء أُسَيْدُ بن حُضَيْر، وعَبَّاد بن بِشْر فقالا يا رسول الله، إن اليهود تقول: كذا وكذا، فلا نُجَامِعُهُن؟" يعني: أن أُسَيْد بن حُضَيْر، وعَبَّاد بن بِشْر رضي الله عنهما نقلا للنبي صلى الله عليه وسلم ما قالته اليهود عندما علموا مخالفة النبي صلى الله عليه وسلم لهم، ثم إنهما رضي الله عنهما سألا النبي صلى الله عليه وسلم عن إباحة الوطء لأجل تحقيق مخالفة اليهود في كل شيء، والمعنى: إذا كنَّا قد خَالفْنَاهم في كونهم لا يخالطوهن، ونحن نخالط ونضاجع ونؤاكل ونشارب، ونفعل كل شيء إلا النكاح -الجماع- أفلا ننكحهن، حتى تتحقق مخالفتهم في جميع الأمور؟ "فَتغيَّر وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم " أي أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يقرهما على اجتهادهم، بل غَضِب وظهر معالم غَضِبه على وجهه؛ لأن قولهما مخالف للشرع؛ فالله تعالى يقول :{فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} [البقرة:222] وبين النبي صلى الله عليه وسلم ما هو المراد بالاعتزال المذكور في الآية، وهو أنه لا حق لكم في جماعهن وقت الحيض. "حتى ظننا أن قد وجَد عليهما" يعني: غَضب عليهما بسبب قولهما. "فخرجا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّة من لَبَنٍ إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، فأَرسَل في آثَارِهِما فَسَقَاهُمَا صلى الله عليه وسلم " خرجا من عنده وفي أثناء خروجهما أستقبلهما شخص معه هَدِيَّة من لَبَنٍ يهديها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلمَّا دخل صاحب الهَديِّة على النبي صلى الله عليه وسلم أرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم بِمن يأتي بهما، فلما جاءا إلى النبي صلى الله عليه وسلم سَقَاهُما من ذلك اللَّبَن تلطُّفا بهما وإظهارا للرضا عنهما. "فَعَرَفَا أن لم يَجِد عليهما" يعني: لم يغضب؛ لأنهما كانا معذورين لحُسن نيتهما فيما تكلما به، أو ما استمر غضبه عليهما، بل زال عنه الغَضَب، وهذا من مكارم أخلاقه صلى الله عليه وسلم وتلطفه بأصحابه.

  • فيه تشديد اليهود على أنفسهم حيث أنهم يعتزلون المرأة الحائض لاعتقادهم أنها نجسة.
  • الحائض طاهر: بدنها وعَرَقُهَا وثيابها، فتجوزُ مُبَاشرتها ومُلامَسَتها وقيامها بشؤون منزلها، من إعداد الطعام والشراب وغير ذلك.
  • وجوبُ مخالفة اليهود الَّذين لم يؤاكلوا المرأة الحائض ويعتزلونها.
  • دليل على تحريم جِماع الحائض؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- استثناه بقوله: "إلا النكاح" وقد دل على ذلك أيضا: القرآن وإجماع المسلمين.
  • فيه أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لا يُقِرُّ منكرا.
  • غضب النبي -صلى الله عليه وسلم- عند انتهاك محارم الله تعالى.
  • سُكوت التَّابع عند غضب المَتبُوع وعدم مراجعته له بالجواب إن كان الغَضَب للحق.
  • فيه دليل على مشروعية المُؤانسة والمُلاطفة بعد الغضب على من غَضِب إن كان أهلا لها .
  • قبول النبي -صلى الله عليه وسلم- للهدية.
  • أن من ملك الهدية جاز له التصرف فيها مطلقًا.
  • فيه كرم النبي -صلى الله عليه وسلم- وحسن أخلاقه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید