ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحیحاسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «اسْتَنْزِهوا من البول؛ فإنَّ عامَّة عذاب القبر منه».
ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچو؛ کیوں کہ عمومم قبر کا عذاب اسی وجہ سے ہوتا ہے“۔
تشریح
اس حدیث میں نبی ﷺ عذاب قبر کے اسباب میں سے ایک سبب کو ہمارے لیے بیان فرما رہے ہیں، جو کہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے، یعنی پیشاب سے نہ بچنا اور اس سے پاک صاف نہ رہنا۔
فوائد
- پیشاب سے بچنے اور دوری اختیارکرنے کا خیال رکھنا ،اس طور سے کہ وہ کپڑے اور جسم پر نہ لگے۔
- بہتر ہے کہ اس کے لگنے کے بعد جلد دھو لیا جائے اور اس سے پاکی حاصل کر لی جائے، تاکہ انسان کے نجاست کے ساتھ گھومتا نہ پھرے۔ البتہ نماز کے وقت اسے زائل کرنا واجب ہے۔
- پیشاب نجس ہے۔ جب کسی کے جسم، کپڑا یا کسی جگہ کو لگ جاتا ہے، تو اسے ناپاک کر دیتا ہے۔ لہذا اس کے ہوتے ہوئے نماز درست نہیں ہوتی، کیوں کہ نجاست سے پاک ہونا نماز کے صحیح ہونے کی ایک شرط ہے۔
- پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
- عذاب قبر کا ثبوت۔ یہ کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔
- آخرت میں جزا کا اثبات۔ آخرت کے مراحل میں سے سب سے پہلا مرحلہ قبر کا مرحلہ ہے۔ قبر یا توجنت کی کیاری ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔
تشریح: العربية
يبين لنا النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث أحد أسباب عذاب القبر، وهو الأكثر شيوعاً، ألا وهو عدم الاستنزاه والطهارة من البول.
- الحرص على التنزه والابتعاد من البول، بأن لا يصيبه في بدنه ولا ثوبه .
- الأفضل المبادرة بغسله، والطهارة منه بعد إصابته؛ لئلا تصاحبه النجاسة، أما وجوب إزالتها فيكون عند الصلاة.
- أن البول نجس، فإذا أصاب بدناً أو ثوباً أو بقعة، نجسها؛ فلا تصح بذلك الصلاة؛ لأن الطهارة من النجاسة أحد شروطها.
- أن ترك التنزه من البول من كبائر الذنوب.
- ثبوت عذاب القبر، وهو ثابت بالكتاب والسنة والإجماع.
- إثبات الجزاء في الآخرة، فأول مراحل الآخرة هي القبور، فالقبر: إما روضة من رياض الجنة، أو حفرة من حفر النار.