حدیث

اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ سے باہر آتے تو فرماتے: "غفرانك" (اے اللہ! میں تیری مغفرت چاہتا ہوں)

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد

عربی متن

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المؤْمنينَ رَضيَ اللهُ عنها: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الغَائِطِ قَالَ: «غُفْرَانَكَ».

ترجمہ

امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ سے باہر آتے تو فرماتے: "غفرانك" (اے اللہ! میں تیری مغفرت چاہتا ہوں)

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت یعنی پاخانہ کی جگہ سے نکلتے تو فرماتے : اے اللہ ! میں تجھ سے تیری مغفرت مانگتا ہوں۔

فوائد

  • قضائے حاجت کی جگہ سے نکلنے کے بعد "غُفرانَك" کہنا مستحب ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم تمام احوال میں اللہ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔
  • قضاے حاجت کے بعد مغفرت طلب کرنے کا سبب کیا ہے؟ اس کے بیان میں درج ذیل باتیں کہی گئی ہيں: -اللہ کی عطا کی ہوئی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں ہونے والی کوتاہی کى بنا پر۔ -اذیت ناک چیزوں کے نکلنے میں اس کی جانب سے فراہم کی گئی آسانی کى بنا پر۔ -میں تجھ سے بخشش اس لیے طلب کرتا ہوں کہ قضاے حاجت کے وقت تیرے ذکر سے غافل رہا۔
تشریح: العربية

كانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم إذا خَرَجَ مِن قَضاء حاجتِه مِن الغائط قال: أسألُك (غُفرانَك) يا الله.

  • استحباب قول: "غُفرانَك" بعد الخروج من مَحلِّ قضاء الحاجة.
  • استغفار النبيِّ صلى الله عليه وسلم لربّه في جميع الأحوال.
  • قيل في سبب طلب المغفرة بعد قضاء الحاجة: من التقصير في شكر نعم الله الكثيرة ومنها تيسير خروج ما يؤذي، وأطلب مغفرتَك أن انشغلت عن ذكرِك وقت قضاء الحاجة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید