ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن سلمان رضي الله عنه ، قال: قيل له: قد عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُم صلى الله عليه وسلم كل شيء حتى الخِرَاءَةَ، قال: فقال: أجَل «لقد نَهَانا أن نَستقبل القِبْلَة لِغَائِطٍ، أو بَول، أو أن نَسْتَنْجِيَ باليمين، أو أن نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ من ثلاثة أحْجَار، أو أن نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَو بِعَظْمٍ».
ترجمہ
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ان سے کہا گیا کہ تمھارے نبی تمھیں ہر چیز سکھاتے ہیں، حتیٰ کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ ہمیں آپ ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے روکا ہے، اسی طرح داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے، تین سے کم پتھروں کے استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی روکا ہے۔
تشریح
حدیث کا مفہوم:سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: ”قد عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُم ﷺ كل شيء حتى الخِرَاءَةَ“ یعنی آپ ﷺ اپنے صحابہ کو بیت الخلا میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک، قضاے حاجت کے آداب سکھلاتے ہیں۔ اسی میں سے قضاے حاجت کے وقت قبلے کی طرف رُخ اور پیٹھ کرنا اور داہنے ہاتھ، گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کرنا ہے۔ ہاں! ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے منع فرمایا کہ قضاے حاجت کے وقت قبلے کی طرف رُخ بھی نہیں کرنا چاہیے اور پیٹھ بھی۔ اس لیے کہ یہ نماز وغیرہ میں مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ یہ سب سے محترم جہت ہے، اس کی عزت اور تکریم ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّه﴾ ”جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔“ (الحج:30). داہنے ہاتھ سے استنجا کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس لیے کہ داہنا ہاتھ پاکیزہ، محترم اور اچھے کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔ جن کاموں میں ذلت اور توہین کا پہلو ہوتا ہے، جیسے پاخانہ صاف کرنا تو یہ بائیں ہاتھ کے کام ہیں۔ دوسری حدیث کے الفاظ ہیں: ”ولا يَتَمَسح من الخلاء بيمنيه“ (اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے)۔ تین سے کم پتھر استنجا میں استعمال کرنا بھی ممنوع ہے، اگرچہ صفائی اس سے کم سے بھی حاصل ہو جائے۔ اس لیے کہ اکثر تین سے کم پتھروں سے پاکی حاصل نہیں ہوتی، تین پتھروں کی قید اس وقت ہے جب پتھروں کے بعد پانی استعمال نہ کیا جارہا ہو۔ اگر پتھروں کے بعد پانی کا استعمال بھی ہو، تو تین پتھروں سے کم پر بھی اکتفا کرسکتے ہیں۔ اس لیے کہ اس وقت یہاں پتھروں سے مقصود نجاست کا کم کرنا ہے، مکمل طہارت حاصل کرنا نہیں۔ گوبر سے استنجا کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس لیے کہ یہ جنات کے جانوروں کی غذا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ جنات کا ایک وفد آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے کھانے کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمھارے لیے ہر وہ ہڈی ہے، جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور وہ تمھارے ہاتھوں میں آجائے، اس پر پہلے سے زیادہ گوشت آجاتا ہے اور ہر مینگنی یا لید تمھارے جانوروں کا چارہ ہے“۔ ہڈیوں سے استنجا کرنا بھی شریعت میں ممنوع ہے۔ اس لیے کہ یہ جنات کی خوراک ہے۔ جیسے کہ گزشتہ حدیث میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”ان سے استنجا نہ کیا کرو؛ کیوںکہ یہ تمھارے جن بھائیوں کی خوراک ہے“۔ اس طرح، حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ ہڈیوں سے استنجا نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ انھیں گندہ نہ کیا جاۓ؛تاکہ انھیں بطور غذا استعمال کرنے والوں کو دشواری نہ ہو۔ کیوں کہ جب انھیں نجاست صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاۓ گا، ان کی غذا خراب ہو جاۓ گی۔
تشریح: العربية
معنى الحديث: "عن سلمان، قال: قيل له: قد عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُم صلى الله عليه وسلم كل شيء حتى الخِرَاءَةَ" يعني: أن النبي صلى الله عليه وسلم علَّم أصحابه آداب قضاء الحاجة من أول ما يَدخل محل قضاء الحاجة إلى أن يخرج منه، ومن ذلك: استقبال القبلة واستدبارها حال قضاء الحاجة، والنهي عن الاستنجاء باليمين، وبالرَّجِيع والعَظام. "قال: أجَل: لقد نَهَانا أن نَستقبل القِبْلَة لِغَائِطٍ، أو بَول" يعني: نعم، نهانا النبي صلى الله عليه وسلم أن نستقبل القبلة حال التَّغَوط أو التَّبول، فما دام أنه يقضي حاجته ببول أو غائط، فإنه لا يستقبل القبلة ولا يستدبرها؛ لأنَّها قِبْلة المسلمين في صلاتهم وغيرها من العبادات، وهي أشرف الجهات، فلا بد من تكريمها وتعظيمها قال تعالى : (وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ) [الحج: 30]. "أو أن نَسْتَنْجِيَ باليَمِين" أيضا: مما نهاهم عنه الاستنجاء باليمين؛ لأن اليَد اليُمنى تستعمل في الأمور الطيبة المحترمة المحمودة، وأما الأمور التي فيها امتهان كإزالة الخارج من السَّبيلين، فإنه يكون باليَد اليُسرى لا اليَد اليُمنى. وفي الحديث الآخر: (ولا يَتَمَسح من الخلاء بيمنيه). "أو أن نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ من ثلاثة أحْجَار" أيضا: مما نهاهم عنه الاستنجاء بأقل من ثلاثة أحْجَار ولو حصل الإنقاء بأقل منها؛ لأن الغالب أن دون الثلاث لا يحصل بها الإنقاء، ويقيَّد هذا النَّهي إذا لم يَرد إتباع الحجارة الماء، أما إذا أراد إتباعها بالماء، فلا بأس من الاقتصار على أقلَّ من ثلاثة أحجار؛ لأنَّ القَصد هُنا هو تخفيف النَّجاسة عن المكان فقط، لا التطهُّرُ الكامل. "أو أن نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ" أيضا: مما نهاهم عنه الاستنجاء بالرَّجيع؛ لأنه عَلف دَوَاب الجِن، كما جاء مصرحا به في صحيح مسلم أن وفداً من الجِن جاءوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه الزاد فقال: (لكم كل عَظْم ذُكِر اسم الله عليه، يقع في أيديكم أوفَر ما يكون لحْمَا، وكل بَعَرة علف لِدَوابِّكم). "أَو بِعَظْمٍ" أيضا: مما نهاهم عنه الاستنجاء بالعظام؛ لأنها طعام الجن، للحديث السابق حيث قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (فلا تستنجوا بهما فإنهما طعام إخوانكم). فإذا: السنة جاءت مبينة أن الحِكمة في ذلك عدم تقذيرها وإفسادها على من هي طعام لهم؛ لأنها إذا استعملت فيها النجاسة، فقد أفسد عليهم طعامهم.
- فيه بيان شمول الشريعة الإسلامية في كل ما يحتاج الناس إليه، في حياتهم اليومية من تعليمهم آداب الأكل والشرب واللباس وقضاء الحاجة تحقيقا؛ لقوله -تعالى-: (وأنزلنا إليك الذكر لتبين للناس ما نزل إليهم) [النحل:44] وقوله تعالى: (ونزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء) [النحل:89].
- تحريم استقبال القِبلة أثناء البول أو الغائط؛ لقوله: "نهانا" والأصل في النهي التحريم.
- جواز استقبال المَشَاعر المُحَرَّمة واستدبارها بالبول والغائط؛ لأن النهي مقيد بالقِبلة، ويخرج ما عداها.
- جواز استقبال الشمس والقمر أثناء قضاء الحاجة؛ لأن أهل المدينة إذا لم يستقبلوا القبلة فسوف يستقبلون الشَّرق أو الغَرب، وحينئذ يكونون مستقبلين: إما للشمس وإما للقمر.
- النَّهْيُ عن الاستنجاء، أو الاستجمار باليد اليمنى؛ تكريمًا لها.
- تَفضيل اليَد اليُمنى على اليُسرى؛ لأن اليَد اليُسرى تُستخدم لإزالة النَّجاسات والقَذَارات، واليُمنى لما عَدا ذلك.
- وجوب إزالة النجاسة بالماء أو الأحْجَار، سواء قَلَّت النجاسة أم كَثُرت.
- النَّهْي عن الاسْتِجْمَار بأقلَّ من ثلاثة أحَجار؛ لأن أقل من ثلاثة أحجار لا ينقي في الغالب.
- قد يفهم تعيين الأحجار لإزالة النجاسة، فلا يقوم غيرها مقامها من الأخشاب، أو الخِرق، أو المناديل، ونحو ذلك، لكن هذا الفهم غير مراد، فكل ما يحصل به المقصود من التَّطهر والإنْقَاء، فإنه يجزئ، وإنما نَص -صلى الله عليه وسلم- على الأحجار؛ لأنها الغَالب وما كان كذلك فلا مفهوم له.
- استحباب قطع الاستجمار على وتْر، فإذا حصل الإنقاء بأربع استحب أن يزيد خامسة وهكذا؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: (من استجمر فليوتر).
- النَّهْيُ عن الاستجمار بالرجيع؛ لأنَّه: إمَّا نجس، وإِمَّا لأنَّه عَلَفُ دوابِّ الجنِّ.
- النَّهي عن الاستجمار بالعظم؛ سواء كانت العظام عظام ميتة أو عظام مُذَكَّاة؛ لأنه إذا كانت العظام من حيوانات مَيتة، فهي نَجِسة، والنَّجِس لا يمكن أن يُطهر به، وإن كانت من حيوانات مُذَكَّاة فهي طعام الجِنِّ، ولا يحل إفساد طعامهم.
- تحريم العُدوان على حقِّ الغير؛ لنهي النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الاستنجاء بالرَّجيع أو العَظم.
- فيه أن الجَن يأكلون ويشربون؛ لنهي -صلى الله عليه وسلم- عن الاستنجاء بالعظام؛ لأنه طعام إخواننا من الجِن.