حدیث

دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ان سے بچو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا ان کی سایہ دار جگہوں پر قضائے حاجت کرے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «اتقوا اللَّعَّانَيْن» قالوا: وما اللَّعَّانَانِ يا رسول الله؟ قال: «الذي يَتَخَلَّى في طريق الناس، أو في ظِلِّهم».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ان سے بچو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا ان کی سایہ دار جگہوں پر قضائے حاجت کرے۔

تشریح

دو ایسی باتوں سے پرہیز کرو جن کی وجہ سے لوگ لعنت کرتے ہیں بایں طور کہ جو ان کو کرتا ہے اسے عموماً بُرا بھلا کہا جاتا ہے اور اس پر لعنت کی جاتی ہے یعنی عموماً لوگ انھیں کرنے والے کو لعنت ملامت کرتے ہیں۔ چنانچہ اس وجہ سے لعنت کو ان دو باتوں کی طرف منسوب کیا گیا۔ ان سے مراد لوگوں کی گزر گاہوں اور ان کی سایہ دار جگہوں میں قضائے حاجت کرنا ہے۔ یہ ایسا ہی جیسا کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ: ﴿وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾ ”اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیوں کہ پھر وه براهِ جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے“۔ (الانعام: 108) یعنی تم اس بات کا سبب بنو گے کہ وہ اللہ کو برا بھلا کہیں کیوں کہ تم نے ان کے معبودوں کو برا بھلا کہا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے باپ یا ماں کو گالی دے۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ: کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دیتا ہے!؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ آدمی کسی اور شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ جواباً وہ بھی اس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے۔ چنانچہ یہ ایسے ہی ہو گیا کہ گویا اس نے اپنے ہی باپ کو گالی دی کیوں کہ وہی اس کا سبب بنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسی جگہوں پر پیشاب پاخانہ کرتا ہے جہاں لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور جہاں ان کا آنا جانا رہتا ہے۔ اس عمل کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں، چاہے ایسا حالت اقامت میں ہو یا دورانِ سفر، کیوں کہ ایسا کرنے سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا﴾ ”اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں“۔ (الاحزاب: 58) تاہم اگر راستہ غیر آباد ہو تو اس پر قضائے حاجت میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ اب حرمت کی علت باقی نہیں رہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کسی ایسی سایہ دار جگہ پر قضائے حاجت کرے جہاں لوگ دوپہر کو قیام کرتے ہوں اور پڑاؤ ڈالتے ہوں۔ تاہم ویران علاقوں میں موجود جگہیں جہاں لوگوں کا آنا جانا نہیں ہوتا، ان میں قضائے حاجت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ یہاں بھی علت نہیں پائی جاتی اس لیے کہ آپ ﷺ خود کھجوروں کے جھنڈ میں قضائے حاجت کے لیے بیٹھے جو سایہ دار تھا۔

تشریح: العربية

اجتنبوا الأمرين الجَالِبَين لِلَّعْنِ من الناس، الدَّاعيين إليه؛ وذلك أن من فعلهما شُتم ولُعِن في العادة؛ يعني أن عادة الناس أن تَلْعَنه، فهو سَبب في اللَّعن، فلما كان كذلك أُضيف اللَّعن إليهما، وهما التخلَّي في طريق النَّاس أو ظِلِّهم، وهذا مثل قوله تعالى : (وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ). [الأنعام:108] أي: أنتم تتسببون في أنهم يَسُبُّون الله؛ لأنكم سببتم آلهتهم، وأيضا: نهيه صلى الله عليه وسلم عن سَبِّ الرَّجل أبَاه وأُمَّه: قالوا: وهل يَسُب الرَّجُل والِدَيه؟ قال: نعم، يَسُبُّ الرَّجُلُ أبَا الرَّجُل، فَيَسُبُّ أبَاهُ، ويَسُبُّ أَمَّهُ) فيكون كأنه هو الذي سَبَّ أبَاه؛ لأنه تسبب في ذلك. وقوله: "الذي يتخلَّى في طريق النَّاس"، أي: يقضي حاجته ببول أو غائط في الأماكن التي يَسلكها الناس ويطرقونها، ولا شك في حُرمته، سواء كان ذلك في حَضَر أو سَفر؛ لأن في ذلك أذية لهم، وقد قال تعالى : (وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا) [الأحزاب : 58] أما إذا كانت الطريق غير مسلوكة، فلا حرج في قضاء حاجَته فيها؛ لانتفاء العلة. وقوله: "أو في ظِلِّهم" أي: يقضي حاجته في الظِّل الذي يتخذه الناس مقيلاً ومناخاً ينزلونه ويقعدون فيه، أما الظِل في الأماكن الخالية التي لا يأتيها الناس ولا يقصدونها، فلا حرج من قضاء الحاجة تحته؛ لانتفاء العلة؛ ولأن النبي صلى الله عليه وسلم قَعد تحت حائش النَّخل لحاجته وله ظِل.

  • جواز إطلاق اللَّعنة على من فَعَلَ ما فيه أذيَّةُ المسلمين، لكن الأولى أن لا يلعنه بعينه، بل يقوله :"اللهم العن من فعل كذا"؛ لأن لَعْن المُعَيَّن حرام ولو كان كافرا.
  • أنَّ التغوَّط أو البول في طريق الناس وظلهم وغيرهما مما يحتاجه الناس يسبِّب لَعْنَ النَّاس لفاعلها، وربَّما لحقته لعنتهم؛ لأنَّه هو المتسبِّب في ذلك؛ لما روى الطبراني في الكبير بإسنادٍ حسن؛ أنَّ النَّبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "من آذى المسلمين في طُرقهم، وجبَتْ عليه لَعْنَتهم".
  • تحريمُ البول أو التغوُّط في طرق النَّاس التي يعبرون منها، أو ظلهم الذي يجلسون ويستظلون فيه، ويقاس عليهما كلُّ ما يحتاج إليه النَّاس من النَّوادي والأفْنِيةِ، والحدائقِ والمَيادينِ العامَّة، وغير ذلك، ممَّا يرتاده الناس، ويجتمعون فيه، ويَرْتَفِقُون به.
  • فيه أن كل ما يؤذي المسلمين فهو حرام؛ قال -تعالى-: (وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا) [الأحزاب: 58].
  • البُعد عن الألفاظ المُسْتَقْبَحة؛ حيث عدل النبي -صلى الله عليه وسلم- بالتعبير بـ "يتخلَّى" عن التغوُّط وما شابهه مما يُستقبح.
  • كمالُ الشريعة الإسلاميَّة وسمُّوها، من حيث النظافة والنَّزاهة، وبُعْدُهَا عن القَذارة والوسَاخة، وتحذيرُها عمَّا يَضُرُّ النَّاس في أبْدَانِهم وأديانهم وأخلاقهم.
  • شمولُ الشريعة؛ فإنَّها لم تترك خيرًا إلاَّ دَعَتْ إليه، ولا شرًّا إلاَّ حذَّرَتْ منه، حتى في أمور التخلِّي فقد بيَّنَتْ لهم الأمْكِنة التي يجبُ بُعدهم عنها.
  • رعاية الشريعة الإسلامية لحفظ حقوق الناس؛ لذلك مَنَعت من التخلِّي فيما لهم فيه حَق.
  • الحديث يشير إلى قاعدةٍ شرعية، هي أنَّه إذا اجتمَعَ متسبِّبٌ ومباشر:فإنْ كان عمل كلِّ واحدٍ منهما مُستقلاًّ عن الآخر، فالضَّمان والإثم على المباشر. وأَمَّا إذَا كانت المُباشرةُ مبنيَّهً على السبب، صار المتسبِّب هو المتحمِّل؛ كهذا المثال في الحديث؛ فالدعاء فيه إثم، والذي قام به من لعن المتخلِّي عن الطريق مثلاً، ولكن المتسبِّب في هذا الدعاء هو المتخلِّي، فهنا يكون الدعاء مباحًا في حقِّ المباشر، وهو الدَّاعي، والذي تحمَّل إثمَهُ المتسبِّبُ منه، وهذا المتخلِّي في الطريق.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید