حدیث

کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤں؟

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي سعيد رافع بن المعلى رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآن قَبْلَ أنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِد؟» فَأخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أرَدْنَا أنْ نَخْرُجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنَّكَ قُلْتَ: لأُعَلِّمَنَّكَ أعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآنِ؟ قالَ: «الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ، هِيَ السَّبْعُ المَثَانِي وَالقُرْآنُ العَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ».

ترجمہ

ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟ آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑا، جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے، جو سبع مثانی ہے اور قرآنِ کریم جو مجھے دیا گیا ہے۔

تشریح

ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ألا“ یہ لفظ مخاطب کو ما بعد والی بات کی طرف متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ ” مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟“ آپ ﷺ نے ابتداءً نہیں بتایا بلکہ یہ جملہ کہا، اس لیے کہ یہ اسلوب ان کے ذہن میں بات ڈالنے اور ان کو اس طرف متوجہ کرنے کے زیادہ مناسب تھا۔ ”پس آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا“ یعنی یہ کہنے کے بعد جب ہم چلنے لگے، ”جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے“ یعنی سورہ فاتحہ قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت ہے، یہ اس لیے کہ اس میں قرآنِ کریم کے تمام مقاصد جمع ہیں، اسی وجہ سے اسے اُمُّ القرآن کہتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی ﷺ نے سورۃ فاتحہ کو ”سبعِ مثاني“ کا نام دے کر اسے باقی تمام سورتوں سے ممتاز کیا بلکہ اس کو ان سب میں سے بڑی سورت قرار دیا۔ ’مثاني‘ مثناة کی جمع ہے اور مثناة تثنیۃ سے ہے، اس لیے کہ یہ نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھا جاتا ہے یا اس لیے کہ اس کے ساتھ دوسری سورت ملا کر اسے تثنیہ بنایا جاتا ہے یا اس کو ’مثاني‘ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دو قسموں پر مشتمل ہیں ثناء اور دعاء یا اس لیے کہ اس میں الفاظ کی فصاحت اور معانی کی بلاغت دونوں چیزیں جمع کی گئی ہیں یا اس لیے کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ اسے دُہرایا جاتا رہے گا، بار بار پڑھا جائے گا جس سے یہ ختم نہیں ہوگی، اسے پڑھایا جائے گا جس سے یہ سینوں سے نہیں مٹے گا یا اس لیے کہ اس کے فائدوں میں وقتاً فوقتاً تجدید ہوتی ہے، اس لیے کہ ان کی کوئی انتہاء نہیں یا اس کی وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ ’مثناۃ‘، ’ثناء‘ سے ماخوذ ہے، کیوں کہ یہ سورت اللہ کی تعریف پر مشتمل ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے ذریعے اس کی تعریف کی جاتی ہے اور یا یہ ’الثنايا‘ سے ماخوذ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے چُنا ہے۔ ”والقرآن العظيم“ یعنی اس سورت کو قرآن عظیم بھی کہتے ہیں۔ جو مجھے دیا گیا ہے۔ اس سورت کو قرآنِ عظیم کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس میں دنیا و آخرت سے متعلق تمام موجودات اور احکام و عقائد کو جمع کیا گیا ہے۔

تشریح: العربية

عن أبي سعيد رافع بن المعلى رضي الله عنه قال: قال لي رسول اللّه صلى الله عليه وسلم : "ألا" أتى بها لتنبيه المخاطب لما يلقى إليه بعدها، قوله: "أعلمك أعظم سورة في القرآن قبل أن تخرج من المسجد"، وإنما قال له ذلك، ولم يعلمه بها ابتداء؛ ليكون أدعى إلى تفريغ ذهنه لتلقيها وإقباله عليها بكليته، قوله: "فأخذ بيدي"، أي: بعد أن قال ذلك ومشينا، قوله: "فلما أردنا أن نخرج قلت: يا رسول اللّه إنك قلت: لأعلمنك أعظم سورة في القرآن"، قوله: "قال: الحمد للّه ربّ العالمين"، أي: سورة الفاتحة، وإنما كانت أعظم سورة لأنها جمعت جميع مقاصد القرآن، ولذا سميت بأم القرآن. ثم أشار إلى ما تميزت به الفاتحة عن غيرها من بقية السور حتى صارت أعظم منها، بقوله: "هي السبع المثاني"، أي: المسماة به، جمع مثناة من التثنية لأنها تثنى في الصلاة في كل ركعة، أو لأنها تثنى بسورة أخرى، أو سميت بذلك لاشتمالها على قسمين: ثناء ودعاء، أو لما اجتمع فيها من فصاحة المباني وبلاغة المعاني، أو لأنها تثنى على مرور الزمان وتتكرر فلا تنقطع وتدرس فلا تندرس، أو لأن فوائدها تتجدد حالاً فحالاً إذ لا منتهى لها، أو جمع مثناه من الثناء لاشتمالها على ما هو ثناء على اللّه تعالى، فكأنها تثنى عليه بأسمائه الحسنى وصفاته، أو من الثنايا لأن اللّه استثناها لهذه الأمة، وغير ذلك، قوله: "والقرآن العظيم"، أي: وهي المسماة بذلك أيضاً، قوله: "الذي أوتيته"، أي: أعطيته، وتسميتها بالقرآن العظيم لجمعها سائر ما يتعلق بالموجودات دنيا وأخرى وأحكاماً وعقائد.

  • سورة الفاتحة أعظم سورة في كتاب الله -تبارك وتعالى-.
  • تفضيل بعض القرآن على بعض بما جاء عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في ذلك.
  • حرص الرسول -صلى الله عليه وسلم- على تعليم الناس الخير، وبيانه لهم.
  • أن الفاتحة سبع آيات.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید