ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عقبة بن عامر رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ألَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتْ هذِهِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ؟ (قل أعوذ برب الفلق) و(قل أعوذ برب الناس)».
ترجمہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جو آیات آج رات نازل ہوئی ہیں ان جیسی آیات پہلے کبھی نازل نہیں ہوئیں۔ یہ آیات ’’ قل أعوذ برب الفلق ‘‘ اور ’’قل أعوذ بربّ الناس‘‘ ہیں۔
تشریح
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "ألم تر" یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں؟ اگرچہ اس میں خاص طور پر راوی مخاطب ہے تاہم یہ بات سب کے لیے عام ہے۔ یہ تعجب کا پیرایہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ کہہ کر سببِ تعجب کی طرف اشارہ فرمایا کہ ”لم ير مثلهن“ یعنی ’تعوذ‘ کے باب میں اس طرح کی کوئی اور آیات نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کے "قط" کے لفظ کے استعمال سے نفی کی تاکید ہوتی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ”قل أعوذ برب الفلق“ اور ”قل أعوذ برب الناس“ یعنی کسی سورت کی آیتیں ایسی نہیں ہیں جو ساری کی ساری پڑھنے والے کو اشرار کے شر سے پناہ دیتی ہوں جیسے یہ دو سورتیں ہیں۔کوئی پناہ طلب کرنے والا جب ان کے ذریعے ایمان و صدق کے ساتھ پناہ مانگتا ہے تو اللہ عز وجل اسے پناہ دیتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ ان دونوں سورتوں کے ذریعے پناہ طلب کرے۔
تشریح: العربية
عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ألم تر"، أي: ألم تعلم، وهو خطاب خاص للراوي، والمراد به عام للجميع، وهي كلمة تعجب، وأشار إلى سبب التعجب، بقوله: "لم ير مثلهن"، أي: في بابها وهو التعوذ، وقوله: "قط"، لتأكيد النفي، قوله: "قل أعوذ برب الفلق"، و "قل أعوذ برب الناس"، أي: لم توجد آيات سورة كلهن تعويذ للقارىء من شر الأشرار مثل هاتين السورتين، ما تعوذ بهما متعوذ عن إيمان وصدق إلا أعاذه الله عز وجل، فالحاصل أن الإنسان ينبغي أن يتعوذ بهاتين السورتين.
- فضل سورتي الفلق والناس، وأنهن من خير ما أنزل على رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
- اقتصار النبي –صلى الله عليه وسلم- عليهما في التعويذ؛ لاشتمالهما على الجوامع في المستعاذ به والمستعاذ منه.