حدیث

اللہ تعالی علم کو بندوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إنَّ اللهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعاً يَنْتَزعهُ مِنَ النَّاسِ، وَلكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِماً، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوساً جُهَّالاً، فَسُئِلُوا فَأفْتوا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأضَلُّوا».

ترجمہ

عبدالله بن عمرو بن العاص - رضی الله عنہما - سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالی علم کو بندوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا یہاں تک کہ جب اللہ کوئی عالم باقی نہیں چھوڑے گا تو (اس وقت) لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے۔ ان سے جب کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے گا تو وہ علم کے بغیر فتوی دیں گے اور یوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“۔

تشریح

عبداللہ بن عمرو - رضی الله عنہما - سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "اللہ علم کو چھین کر نہیں اٹھائے گا۔" اس سے کتاب و سنت اور اس سے متعلقہ علوم مراد ہیں۔ ”انتزاعاً ينتزعه من الناس“ یعنی لوگوں سے علم کو یوں نہیں ختم کرے گا کہ ان کے درمیان سے علم کو آسمان پر اٹھا لے بلکہ علم کو علماء کو موت دے کر اور ان کی روحوں کو قبض کرکے اٹھائے گا۔یہاں تک کہ جب اللہ کسی بھی عالم کو نہیں چھوڑے گا یعنی ہر عالم کی روح قبض کر لے گا تو لوگ ایسے افراد کو اپنا خلیفہ، قاضی، مفتی، امام اور شیخ بنا لیں گے جو جاہل ہوں گے۔ ”جُھّال“ دراصل جاہل جمع ہے۔ ایسے لوگوں سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جائے گا تو وہ بغیر کسی علم کے فتوی دیں گے اور بلا علم فیصلہ کر دیا کریں گے اور یوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اس طرح سے جہالت عام ہو جائے گی۔ اس حدیث میں اشارہ ہے کہ علم عنقریب اٹھا لیا جائے گا اور زمین میں ایک عالم بھی ایسا نہیں رہے گا جو لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف رہنمائی کرے۔ اس طرح سے امت پستی کا شکار ہوجائے گی اور گمراہی میں پڑ جائے گی۔

تشریح: العربية

عن عبدالله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن الله لا يقبض العلم"، المراد به علم الكتاب والسنة وما يتعلق بهما، "انتزاعاً ينتزعه من الناس"، يعني: لا يقبض العلم من الناس بأن يرفعه من بينهم إلى السماء، "ولكن يقبض العلم"، أي: يرفعه، "بقبض العلماء"، أي: بموتهم ورفع أرواحهم، "حتى إذا لم يبق"، أي: الله، "عالماً"، بقبض روحه "اتخذ الناس رؤوساً"، أي: خليفة وقاضياً ومفتياً وإماماً وشيخاً، "جهالاً"، جمع جاهل أي: جهلة، "فسئلوا، فأفتوا"، أي: أجابوا وحكموا، "بغير علم، فضلوا" أي: صاروا ضالين، "وأضلوا"، أي: مضلين لغيرهم، فيعم الجهل العالم، ففي هذا الحديث إشارة إلى أن العلم سيقبض، ولا يبقى في الأرض عالم يرشد الناس إلى دين الله، فتتدهور الأمة وتضل بعد ذلك.

  • الحث على طلب العلم، ليكثر العلماء، ويعم نفع الناس بهم.
  • موت العلماء مصيبة تحل بالأمة، وثَلْم في الإسلام.
  • الفتوى هي الرياسة الحقيقية، وذم من يقدم عليها بغير علم.
  • التحذير من استفتاء الجاهلين، أو الفتوى بغير علم.
  • الفتوى بالرأي سبيل الضلال والإضلال.
  • قلة العلم بالدين من علامات قرب القيامة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید