حدیث

رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن شريح بن هانئ، قال: أتيتُ عائشة أسألها عن المسح على الخُفَّين، فقالت: عَلَيْكَ بِابْنِ أبِي طالب، فَسَلْهُ فإِنَّه كان يُسَافِرُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألناه فقال: «جَعَلَ رسول الله صلى الله عليه وسلم ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ للمسافر، ويوما وليلة للمُقيم».

ترجمہ

شریح بن ہانی بیان بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں پوچھنے آیا (کہ اس کی مدت کتنی ہے؟)، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابن ابی طالب کے پاس جا کر پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔

تشریح

شریح بن ہانی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کی مدت کے بارے میں استفسار کے لئے آئے۔ یہ استفسار اس وقت ہوا جب کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا؛ کیونکہ وہ مسح کی سنت کو زیادہ جاننے والے تھے۔ شریح ابن ہانی کہتے ہیں کہ: ”ہم نے ان سے مسح کے بارے میں پوچھا“یعنی اس کی مدت کے بارے میں دریافت کیا۔ مسح کا معنی ہے عضو پر گیلا ہاتھ پھیرنا۔ خُف (موزہ) چمڑے سے بنا جوتا ہوتا ہے جو ٹخنوں کو ڈھانپ لیتا ہے اور ’جَورَب (پائتابہ) کسی بھی شے سے بنے ہوئے پاؤں کے غلاف کو کہتے ہیں چاہے وہ بال کا ہو یا اون کا، چاہے وہ موٹا ہو یا پتلا، یہ ٹخنوں سے اوپر تک ہوتا ہے اور سردی سے بچاؤ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، مسح کرنے میں جورب کا حکم بھی وہی ہے جو خُف کا ہے۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے۔ اس میں جمہور علماء کے مسلک کی دلیل ہے کہ مسح کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے۔ مسافر کی مدت زیادہ اس لیے رکھی گئی ہے کیونکہ سفر کی مشقت کی وجہ سے وہ مقیم کی بنسبت رخصت کا زیادہ حق دار ہے۔

تشریح: العربية

شريح بن هانئ من جملة أصحاب علي رضي الله عنه ، وقد جاء إلى عليٍّ رضي الله عنه مستفتيًا عن التوقيت في المسح على الخفين، وكان هذا الاستفسار بعدما أحالته أمنا عائشة رضي الله عنها على عليٍّ؛ لكونه الخبير في سنة المسح، فقال: (سألناه عن المسح) أي: عن مدته، والمسح إصابة اليد المبتلة بالعضو، والخف نعل من جلد يغطي الكعبين، والجورب لفافة الرجل من أي شيء كان من الشعر، أو الصوف، ثخيناً أو رقيقاً إلى ما فوق الكعب يتخذ للبرد، وحكمه حكم الخف في المسح. فأجابهم علي بن أبي طالب رضي الله عنه : (ثلاثة أيام وليَاليهن للمسافر، ويوما وليلة للمقيم) ففيه دليل لما ذهب إليه جمهور العلماء من توقيت المسح بثلاثة أيام للمسافر، ويوم وليلة للمقيم، وإنما زاد في المدة للمسافر؛ لأنه أحق بالرخصة من المقيم لمشقة السفر.

  • مده مسح المسافر: ثلاثة أيام ولياليهن، وهو من ابتداء المسح بعد الحدث إلى مثل وقته من اليوم الرابع.
  • مدة مسح المقيم: يوم وليلة، ويكون -على الراجح من قولي العلماء- من ابتداء المسح بعد الحدث، إلى مثل وقته من اليوم الثاني.
  • مثل الخفين في المدة: العمامة، وخُمُرُ النِّساء، عند من يقول بجواز المسح عليها؛ ففيها خلاف، والراجح: جواز ذلك.
  • إثبات حكمة الشرع وتنزيل الأمور منازلها، واعتبار الأحوال؛ فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- فرق -هنا- بين المسافر والمقيم، فجعل للمسافر مدة أطول من مدة المقيم، مراعاة بحال المسافر ومشقته، واحتياجه إلى زيادة المدة، بخلاف المقيم المستقر المرتاح، والله حكيم عليم.
  • بيان يسر الشريعة وسماحتها، ومراعاتها لأحوال الناس في قوتهم وضعفهم وحاجتهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید