حدیث

تم عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة زوجِ النبي صلى الله عليه وسلم ، أخبرته أنَّ الحَوْلاء بنت تُوَيت بن حبيب بن أسد بن عبد العُزَّى مرَّت بها وعندها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقلتُ: هذه الحَوْلاء بنت تُوَيت، وزعموا أنها لا تنام الليلَ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا تنامُ الليلَ! خذوا مِن العمل ما تُطِيقون، فواللهِ لا يسأمُ اللهُ حتى تسأموا».

ترجمہ

نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حولاء بنت تُوَیت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزیٰ ان کے پاس ایسے وقت میں گزریں جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تھے، میں نے کہا کہ یہ حولاء بنت تویت ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: رات بھر نہیں سوتیں! تم عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ۔

تشریح

ایک دفعہ حولاء بنت تویت رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزریں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کو بتایا کہ :یہ حولاء بنت تویت رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ ساری رات نماز پڑھتی رہتی ہیں سوتی ہی نہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اُن کے پوری پوری رات کے قیام کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”صرف اتنا ہی عمل کرو جتنی طاقت رکھتے ہو“ نبی کریم ﷺ نے اس عورت کو اتنے کثیر عمل سے روکا کہ جو مشقت کا باعث ہو اور مستقبل میں جس کے کرنے سے عاجز آ جائے اور اس پر مداومت نہ کرسکے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ ہمیں اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنی طاقت ہو۔ ”اللہ کی قسم! اللہ (دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم ہی اکتا جاؤ“ یعنی اللہ عزوجل تمہارے عمل کے مطابق تمہیں ثواب عطا کر دے گا جب تک اس عمل پر ہمیشگی رہے گی اور جب بندہ کسی عمل سے اکتا جائے، تھک جائے، اس کو منقطع کر دے اور ترک کر دے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ثواب کے سلسلے کو منقطع کر دیتاہے۔ کیوں کہ بندے کو اس کے عمل کے مطابق جزا ملتی ہے اور اگر بغیر عذر، مرض اور سفر کے کسی عمل کو چھوڑ دیا جائے تو اس کا ثواب بھی ختم کر دیا جاتا ہے۔ اور یہی اکتاہٹ کا راجح معنی ہے جو اس حدیث کے ظاہر سے سمجھ آرہا ہےجس سے اللہ متصف ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی اکتاہٹ ہماری اکتاہٹ کی طرح نہیں ہے، کیوں کہ ہماری اکتاہٹ تھکاوٹ اور سستی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی اکتاہٹ ایک ایسی صفت ہے جس سے اللہ عزوجل مختص ہےاور اس کے شایان شان ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو تھکاوٹ اور سستی نہیں لاحق ہوتی۔

تشریح: العربية

مرَّت الحَوْلاء بنت تُوَيت بعائشة، فقالت عائشة للنبي صلى الله عليه وسلم : هذه الحَوْلاء بنت تُوَيت، وهي تصلي الليل كله ولا تنام. فأنكر رسول الله صلى الله عليه وسلم عليها قيامها الليل كله، وقال: «خذوا مِن العمل ما تُطِيقون» فأمر النبي -عليه الصلاة والسلام- هذه المرأة أن تكف عن عملها الكثير، الذي قد يشق عليها وتعجز عنه في المستقبل فلا تديمه، ثم أمر النبي - عليه الصلاة والسلام- أن نأخذ من العمل بما نطيق، «فواللهِ لا يسأمُ اللهُ حتى تسأموا» يعني: أن الله عز وجل يعطيكم من الثواب بقدر عملكم، مهما داومتم من العمل فإن الله تعالى يثيبكم عليه، فإذا سئم العبد من العمل وملَّه قطعه وتركه فقطع الله عنه ثواب ذلك العمل؛ فإن العبد إنما يجازى بعمله، فمن ترك عمله انقطع عنه ثوابه وأجره إذا كان قطعه لغير عذر من مرض أو سفر، وهذا هو الراجح في معنى الملل الذي يُفهم من ظاهر الحديث أن الله يتصف به، وملل الله ليس كمللنا نحن، لأن مللنا نحن ملل تعب وكسل، وأما ملل الله عز وجل فإنه صفة يختص به جل وعلا تليق بجلاله، والله سبحانه وتعالى لا يلحقه تعب ولا يلحقه كسل.

  • الاقتصاد في العمل والأخذ منه بما يتمكن صاحبه من المداومة عليه.
  • إثبات السآمة صفة لله -تعالى- على ما يليق به سبحانه على ما سبق تفصيله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید