حدیث

مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت کا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أُذِنَ لي أنْ أُحَدِّثَ عن مَلَك مِن ملائكة الله مِن حَمَلَةِ العَرْش، إنَّ ما بين شَحْمةِ أُذُنِه إلى عاتِقِه مَسِيرةُ سبعِمائة عام».

ترجمہ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت کا ہے“۔

تشریح

جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں، نبی ﷺ خبر دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اجازت مرحمت فرمائی ہے کہ وہ اپنی امت سے اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک عظیم فرشتے کا وصف بیان کریں، ان فرشتوں میں سے جو رحمان کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں جو کہ اللہ کی مخلوقات میں سب سے عظیم مخلوق ہے اور اس فرشتے کے کان کے نچلے حصے کی لو سے لے کر اس کی گردن کے نچلے حصے تک کی مسافت و دوری ایک تیز رفتار گھوڑے کے سات سو برس تک چلنے کے برابر ہے۔

تشریح: العربية

يخبر النبي صلى الله عليه وسلم في حديث جابر رضي الله عنه أن الله تعالى أذِن له وسمح بأن يحدِّث أمته عن وصف مَلَك عظيم من ملائكة الله تعالى ، من الذين يحملون عرش الرحمن الذي هو أعظم المخلوقات، وأن المسافة ما بين الموضع اللين في أسفل أذنه إلى أسفل عنقه يسير فيها الفرس السريع سبعمائة سنة.

  • أن علم الغيب مختص به -تعالى- لكنه يطلع منه من شاء من رسله على ما شاء, وليس على من أطلعه أن يحدث إلا بإذنه.
  • الإيمان بالعرش وأن الملائكة يحملونه.
  • الملائكة مخلوقات عظيمة قوية.
  • عظم مخلوقات الله -تعالى- دليل على عظمة خالقها -سبحانه-، وأنه على كل شيء قدير.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید