حدیث
فرشتے
ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
20 نتائج
- 3038
جتنا تم ہم سے اب ملتے ہو اس سے زیادہ ملنے میں تمھارے لیے کیا رکاوٹ ہے؟
صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - 3265
جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے۔ بے شک آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کو حق ہے کہ وہ چرچرائے، آسمان میں چار انگشت کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ اللہ کے حضور اپنا سر سجدہ ریز کیے ہوئے نہ پڑا ہو۔
حَسَن لغيرهاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - 4925
- 5775
جبریل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے ایک آواز سنی۔
صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - 6328
- 8264
- 8951
- 10418
میں نے جبریل کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔
حَسَنْاسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - 10419
میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پر سے مختلف رنگ کے یاقوت اور موتی گر رہے تھے۔
صحیحاسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - 10422
معراج کی رات جب میرا گزر ملأ اعلی میں جبرائیل کے پاس سے ہوا تو اللہ عز و جل کے خوف سے ان کی کیفیت ایسی تھی جیسے بوسیدہ ٹاٹ ہوتا ہے۔
حَسَنْاسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ - 10546
- 10549
تمہارے ساتھی حنظلہ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں، ان کے بیوی سے (اس کا سبب) پوچھو۔
حَسَنْاسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - 10550
جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا اور ان کے لیے قبر تیار کی اور کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی۔
صحیحاسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ - 10552
- 10553
اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں، وہ مجھ تک میرے امتیوں کا سلام پہنچاتے ہیں۔
صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔ - 10554
نبی ﷺ نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا کہ یہ ہیں جبریل (علیہ السلام) اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور آلاتِ حرب سے لیس ہیں۔
صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - 10557
- 10559
- 10561
ہم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس رقعوں سے قرآن جمع کیا کرتے تھے۔ تو ایک بار آپ نے کہا : "شام کے لیے سعادت و خوشخبری ہے"۔
صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - 65037