ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس رضي الله عنه قال: «كأنِّي أنظر إلى الغُبار ساطِعًا في زُقَاق بني غَنْم، مَوْكبَ جبريلَ -صلوات الله عليه- حين سار رسولُ الله صلى الله عليه وسلم إلى بني قُرَيْظَة».
ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں غبار کی طرف جو بنی غنم کی گلیوں میں اٹھی تھی وہ حضرت جبریل علیہ السلام کے قافلے کی تھی یہ اس وقت کا ذکر ہے جب رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے۔
تشریح
انس بن مالك رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں کہ انہوں نے بنی غنم (خزرج کا ایک خاندان) کے کوچہ میں جو غبار اٹھتا ہوا دیکھا تھا وہ فرشتوں کے سپاہیوں کےاثر سے تھا، اور ان کے سربراہ حضرت جبریل علیہ السلام تھےجس وقت رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے تھے“ اور اثر یا نشان کو دیکھنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے فرشتوں کو دیکھا ہو گا ممکن ہے دیکھا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ دیکھا ہو، اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ انہیں جبریل علیہ السلام کے قافلے کا علم رسول اللہ ﷺکے ذریعہ ہوا ہو گا۔
تشریح: العربية
يخبر أنس بن مالك رضي الله عنه أنه رأى الغبار مرتفعًا في سكة بني غنم، وهم حي من الخزرج، من أثر جند الملائكة، ورئيسهم جبريل -عليه السلام-، حين ساروا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لقتال بني قُرَيْظَة. ورؤية الأثر لا يستلزم رؤية الملائكة، فقد يكون رآهم وقد لا يكون، ولا شك أنه إنما علم كونه موكب جبريل من رسول الله صلى الله عليه وسلم .
- أن جبريل سعى في موكبٍ بنفسه مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى بني قريظة.
- في هذا الحديث ما يدل على رؤية أصحاب النبي -صلى الله عليه سلم- آثار الملائكة.
- الملائكة تعين المؤمنين في جهادهم.