ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه أنَّه كان يَحمِل مع النبي صلى الله عليه وسلم إدَاوَة لوَضوئِه وحاجَتِه، فَبَيْنَما هو يتْبَعُه بها، فقال: «مَنْ هذا؟» فقال: أنا أبو هريرة، فقال: «ابْغِني أحجارًا أسْتَنْفِض بها، ولا تأتِني بعَظْم ولا بِرَوْثَة». فأتيتُه بأحجار أحْمِلها في طرَف ثوبي، حتى وضعتُها إلى جَنْبه، ثم انصرفتُ حتى إذا فَرَغ مشيْتُ، فقلتُ: ما بالُ العَظْم والرَّوْثَة؟ قال: «هما مِنْ طعام الجِنِّ، وإنه أتاني وَفْدُ جِنِّ نَصِيبين، ونِعْمَ الجن، فسألوني الزَّادَ، فدَعَوْتُ اللهَ لهم أن لا يَمُرُّوا بعَظْم ولا برَوْثة إلَّا وجدوا عليها طعامًا».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ تھے، وہ آپ ﷺ کے لیے ایک برتن لے کر چلتے تھے جو آپ کے ﷺ قضاء حاجت اور وضو کے کام آتا تھا، ایک بار یہی برتن لیے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپﷺکے پیچھے جا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کون آرہا ہے؟ میں نے کہا میں ابوہریرہ، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے چند پتھر تلاش کر کے لے آؤ، میں ان سے استنجا کروں گا، اور ہڈی و گوبر نہ لانا، چنانچہ میں چند پتھر اپنے کپڑے میں رکھ کر لایا اور آپ ﷺ کے پاس رکھ دیا، پھر میں وہاں سے لوٹ آیا ، یہاں تک کہ جب نبی ﷺ فارغ ہوگئے تو میں آپ ﷺ کے ساتھ چلا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ دونوں چیزیں جنوں کی خوراک ہیں اور میرے پاس نصیبین (یہ شام اور عراق کے درمیان مشہور قصبہ ہے) کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا اور وہ بہت اچھے جن تھے، چنانچہ انہوں نے مجھ سے توشہ مانگا، میں نے اللہ سے ان کے لیے یہ دعا کی کہ جب یہ کسی ہڈی یا گوبر پر سے گزریں تو انہیں اس پر سے کھانا ملے۔
تشریح
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ چلتے تھے، وہ آپ ﷺ کے لیے ایک برتن لے کر چلتے تھے جس میں پانی ہوا کرتا تھا جو آپ ﷺ کے قضاء حاجت اور وضو کے کام آتا۔ ایک بار یہی برتن لیے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپﷺکے پیچھے جا رہے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا کون آرہا ہے؟ انہوں نے کہا میں ابوہریرہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے چند پتھر تلاش کر کے لے آؤ تاکہ آپ اُن سے استنجا کریں، اور ہڈی و گوبر نہ لانا، چنانچہ میں چند پتھر اپنے کپڑے میں رکھ کر لایا اور آپ ﷺ کے پاس رکھ دیا، پھر میں وہاں سے لوٹ آیا ، یہاں تک کہ جب نبی ﷺ فارغ ہوگئے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ دونوں چیزیں جنوں کی خوراک ہیں۔ اور میرے پاس نصیبین کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا (نصیبین:یہ شام اور عراق کے درمیان مشہور قصبہ ہے) اور نبی ﷺ نے ان کی بہت تعریف کی تھی اور انہوں نے نبی ﷺ سے توشہ مانگا۔میں نے اللہ سے ان کے لیے یہ دعا کی کہ جب یہ کسی ہڈی یا گوبر پر سے گزریں تو انہیں ان پر سے کھانا ملے۔ اور صحیح مسلم میں اس کی تقیید آئی ہے: تمہارے لیے ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے وہ تمہارے ہاتھ میں آتے ہی اس پر وافر مقدار میں گوشت چڑھ جائے گا، اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لیے چارہ ہو جائے گا۔
تشریح: العربية
كان أبو هريرة رضي الله عنه يسير مع النبي صلى الله عليه وسلم يحمل إناء فيه ماء لوضوئه صلى الله عليه وسلم ولاستنجائه، فأمره صلى الله عليه وسلم أن يأتيه بأحجار ليستنجي بها، ولا يأتيه بعظام ولا فضلات حيوان، فأتاه أبو هريرة بأحجار حملها في طرف ثوبه، ووضعها بجانبه ثم انصرف، فلما قضى صلى الله عليه وسلم حاجته سأله أبو هريرة عن السبب في أن لا يستنجى بعظام ولا فضلات حيوان؟ فأخبره النبي صلى الله عليه وسلم أنهما من طعام الجن، وأن وفدَ جن نصيبين -وهي بلدة مشهورة بين الشام والعراق- قد أتوه صلى الله عليه وسلم ، وأثنى عليهم النبي صلى الله عليه وسلم خيرًا، و أنهم سألوه الطعام، فدعا الله لهم أن لا يمروا بعظام ولا فضلات حيوان إلَّا وجدوا عليها طعامًا، وجاء تقييده في صحيح مسلم: (لكم كل عظم ذكر اسم الله عليه يقع في أيديكم أوفر ما يكون لحما، وكل بعرة علف لدوابكم).
- مشروعية الاستنجاء سواء بالماء أو بالأحجار ونحوها من الطاهرات المنقيات.
- أن جواز الاستجمار بالأحجار يستثنى منه العظام وفضلات الحيوان.
- أنه لا يجوز الاستنجاء بجميع المطعومات، فإنه -صلى الله عليه وسلم- نبه بالعظم على ذلك، ويلحق بها المحرمات كأجزاء الحيوان وأوراق كتب العلم وغير ذلك.
- إعداد الأحجار للاستنجاء؛ لئلا يحتاج إلى طلبها بعد قيامه فلا يأمن التلويث.
- الحكمة في النهي عن الاستنجاء بالعظم والروث، أن العظام طعام إخواننا من الجن؛ وأما الروث فهو زاد لدوابهم.
- الجن يأكلون ويشربون لظاهر الأحاديث الصحيحة وعمومها.
- الجن منهم مسلمون ومنهم كافرون، ومن أفضلهم جن نصيبين.