حدیث

مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہہ کر امام کو نماز میں متنبہ کرنا) اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «التَّسْبِيحُ للرجال، والتَّصْفِيق للنساء».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہہ کر امام کو نماز میں متنبہ کرنا) اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: ”مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے“، مسلم شریف کی ایک روایت میں ”نماز میں“ کے لفظ کا اضافہ ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جسے نماز کے اندر کوئی ایسی چیز پیش آ جائے جس کا تقاضا ہو کہ دوسرے کو اس کی خبر دی جائے جیسے نماز میں کسی خلل کے واقع ہونے پر امام کو متنبہ کرنا یا کسی اندھے کو دیکھنا جو کنویں میں گرنے والا ہو یا کسی باہر سے آنے والے کا اندر داخل ہونے کی اجازت چاہنا یا پھر نمازی کسی اور کو کسی بات کی خبر دینا چاہتا ہے تو ان صورتوں میں وہ سبحان اللہ کہے گا تاکہ جس بات پر وہ تنبیہہ کرنا چاہتا ہے، اسے وہ سمجھا سکے۔ یہ طریقہ مردوں کے لیے ہے۔ رہی بات عورت کی تو اگر اسے اپنی نماز میں کوئی ایسی صورت پیش آ جائے تو وہ تالی بجائے گی۔ تالی بجانے کی کیفیت یہ ہے کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر کسی بھی طریقے سے مارے گی۔ ایسا اس لئے ہے تاکہ نماز کو ان تمام باتوں سے دور رکھا جائے جو جنسِ نماز میں سے نہیں ہیں۔ کیونکہ نماز اللہ سبحانہ و تعالی سے مناجات کا مقام ہے۔ لہٰذا کلام کرنے کی ضرورت پیش آنے کے صورت میں وہی کہنا مشروع کیا گیاہے جو نماز کے اقوال کی جنس سے ہے اور وہ سبحان اللہ کہنا ہے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: "التَّسْبِيحُ للرجال، والتَّصْفِيق للنساء"، وفي رواية لمسلم: (في الصلاة)، والمعنى: أن مَن نَابه شيء في الصلاة، يقتضي إعلامَ غيره بشيء، مِن تنبيه إمامه على خَلَلٍ في الصَّلاة، أو رؤية أعمى يقع في بئر، أو استئذان داخل، أو كون المصلِّي يريد إعلامَ غيره بأمر -فإنَّهُ في هذه الأحوال وأمثالها يُسبِّح، فيقول: "سبحان الله"؛ لإفهام ما يُريد التنبيهَ عليه، وهذا في حق الرَّجل، أما المرأة إذا نَابها شيء في صلاتها، فإنها تُصَفِّق، وكيفيته: أن تَضرب إحدى يديها بالأخرى بأي طريقة، وكل هذا إبعاد للصَّلاة عمَّا ليس منها مِنَ الأقوال؛ لأنَّهَا موضعُ مُنَاجَاة مع الله سبحانه وتعالى ، فلمَّا دَعت الحاجةُ إلى الكلام، شُرِعَ ما هو مِن جِنْسِ أقوال الصلاة، وهو التَّسبيح.

  • استحبابُ التَّسبيح في حقِّ الرِّجال، إذا نَابهم شيءٌ في صلاتهم، وذلك بقول: سبحان الله.
  • استحبابُ التصفيق للنِّساء، إذا نابهنَّ شيءٌ في صلاتهن؛ وذلك أستر لهنَّ، لاسيَّمَا وهنَّ في عبادة.
  • الأصل تساوي الأحكام بين الرَّجل والمرأة في الصلاة، إلا ما استثني، كما في هذا الحديث الدال على التفريق بين الرَّجل والمرأة في التنبيه في الصلاة، فشُرع له التَّسبيح ولم يُشرع لها، بل التَّصفيق.
  • فيه بيان أن صوت المرأة فَتنة ولهذا شُرع لها التَّصفيق ولم يُشرع لها التَّسبيح .
  • فيه دليل على عدم جواز التَّصفِيق للرجال؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- أرشَد إليه النَّساء ولم يُرشد إليه الرَّجال، فدل على أنه من خصائِصهِن ولا يجوز للرجل التَّشَبه بالنِّساء، وفيه تَشبه بالكُفَّار في عبادتهم، قال -تعالى- : (وما كان صلاتهم عند البيت إلا مكاء وتصدية) [الأنفال: 35].المُكَاء: الصفير.والتَّصْدِية: التَّصفِيق.ففيه تَشَبه بالنِّساء وتَشَبه بالكفَّار؛ لذلك لا يصلح التَّصْفِيق للرجال في أي حال من الأحوال.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید