ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن الشِّخِير رضي الله عنه قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، وفي صَدره أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَى من البُكَاءِ صلى الله عليه وسلم ».
ترجمہ
عبداللہ بن شخِّیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو رونے کی وجہ سے آپﷺ کے سینے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکّی چلنے کی آواز ہوتی ہے۔
تشریح
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے ایک آواز سنی جیسے چکی چلنے کی آواز ہوتی ہے۔ جس وقت چکی کسی چیز کو پیس رہی ہو تو اس وقت اس کے گرم ہونے کی وجہ سے آواز آتی ہے۔چنانچہ صحابی رضی اللہ عنہ نے نماز میں آپ ﷺ کی رونے کو چکی کی آواز سے تشبیہ دی ہے۔ اور یہ رسول اللہﷺ کا اپنے رب کے ساتھ حال تھا جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے پہلے اور بعد والے سارے گناہ معاف کر دیے تھے لیکن اس کے باوجود آپﷺ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے، اس کا تقویٰ اختیار کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے تھے اور یہ سب کچھ اپنے رب کی کمالِ معرفت کی وجہ سےتھا۔
تشریح: العربية
يخبر عبد الله بن الشِّخِير رضي الله عنه أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يصلِّي، ويُسمع له صوت يُشبه صوت الرَّحَى؛ لأن الرَّحَى عندما يُطحن بها يصدر لها صَوت حَرْحَرَتِها، فشبَّه الصحابي رضي الله عنه بكاءه صلى الله عليه وسلم في الصلاة بصوت الرَّحَى، وهذا هو حاله صلى الله عليه وسلم مع ربِّه، وهو الذي قد غَفَرَ اللهُ له ما تقدَّم من ذَنْبِه وما تَأخَّر، ولكنَّه مع هذا هو أخشَى النَّاسِ وأتْقَاهُم، وأخوفُهُم من الله تعالى ؛ لِكَمال مَعرفته بربِّه.
- جواز البُّكاء في الصلاة من خَشية الله -عزَّ وجل-، وأن هذا لا يؤثر على صحة الصلاة، بشرط أن يَغْلِبه، وإلا فليحرص على كَظْم صوته ما أمكن.
- جواز تَشبيه الأعلى بالأدْنَى، إذا قصد بذلك التَّقريب، وجه ذلك: بُكاء النبي -صلى الله عليه وسلم- أعلى من أَزِيز الرَّحَى، لكن شبهه به للتَّقريب، ونظير ذلك: قول النبي -صلى الله عليه وسلم-: (إنكم سترون ربكم كما ترون القمر ليَّلة البدر)، وكذلك في حديث الوَحي (كأنه سَلسلة على صَفوان).فهذه الأمثلة التَّقريبية لا تستلزم بأي حال من الأحوال التماثل بين المُشبه والمُشبه به، فكل له حُكمه.
- استحبَابُ الخشوع في الصَّلاة، والانْطراحِ فيها بين يَدي الله -تعالى-.