حدیث

نبی ﷺ مکہ میں دس سال رہے جب کہ آپ ﷺ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة وابن عباس رضي الله عنهم : «أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم لَبِثَ بمكَّة عشرَ سِنِين، يَنْزلُ عليه القرآنَ، وبالمدينة عشرًا».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سےروایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں دس سال رہے جب کہ آپ ﷺ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔

تشریح

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نے نبوت کے بعد مکہ میں دس سال قیام کیا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے اور یہ کہ اس ساری مدت کے دوران آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا رہا۔ ایک دوسری حدیث سے یہ ثابت ہے کہ نبوت کے بعد مکہ میں آپ ﷺ کا قیام تیرہ سال رہا۔ ان دونوں احادیث میں تطبیق ایسے دی جائے گی کہ آپ ﷺ باقی تین سال چھپ کر رہے ۔ بعدازاں وحی کو محفوظ کر دیا گیا اور یہ پے درپے نازل ہونے لگی۔ چنانچہ جن لوگوں نےد س سال مدت بیان کی ہے انہوں نے گویا ان تین سالوں کو شمار ہی نہیں کیا یا پھر کسر کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے دس پر ہی اقتصار کر لیا۔

تشریح: العربية

أفاد هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه وسلم أقام بمكة بعد النبوة عشر سنين، وبالمدينة عشر سنين أيضًا، وأن القرآن كان ينزل عليه خلال هذه المدة كلها، وقد ثبت -في غير هذا الحديث- أن مدة إقامته صلى الله عليه وسلم في مكة بعد نبوته ثلاث عشرة سنة، ويجمع بينهما بأنه بقي منها ثلاث سنين مستترا، ثم حمي الوحي بعد ذلك وتتابع، فالذين رووا العشر كأنهم لم يحسبوا تلك السنوات الثلاث، أو اقتصروا على العشرة جبرًا للكسر.

  • أقام النبي -صلى الله عليه وسلم- بمكة والمدينة ثلاثا وعشرين سنة ينزل عليه القرآن، منها ثلاث سنين في مكة مستترا.
  • نزل القرآن على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مفرقًا خلال هذه المدة الطويلة على حسب الوقائع والأحداث.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید