حدیث

جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ پس وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي ذر رضي الله عنه مرفوعًا: «إذا قام أَحَدُكُمْ إلى الصلاة؛ فإنَّ الرَّحمة تُوَاجِهُهُ، فلا يَمْسَح الحَصَى». وعن معيقيب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: في الرجل يُسَوِّي التُّراب حيث يسجُد، قال: «إِنْ كُنْت فاعِلا فَوَاحِدة».

ترجمہ

ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ پس وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے“۔ مُعَیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے جو ہر مرتبہ سجدہ کرتے ہوئے کنکریاں برابر کرتا تھا فرمایا: ”اگر ایسا کرنا ناگزیر ہو تو صرف ایک ہی بار کرو“۔

تشریح

ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں درج ذیل باتوں کا بیان ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو“ یعنی جب وہ نماز شروع کر دے۔ مطلب تکبیرِ تحریمہ سے پہلے کنکریاں صاف کرنا ممنوع نہیں ہے۔ ”وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے“ یعنی کسی معمولی چیز کی وجہ سے نماز سے رو گردانی نہ کرے کیوں کہ اس سے نماز سے توجہ ہٹتی ہے اور اس کی وجہ سے وہ اس رحمت سے محروم ہو جاتا ہے جو نماز کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے ملا کرتی ہے۔ یہ اس وقت کے لیے ہے جب ایسا سجدے کے مقام کو درست کرنے کے لیے نہ کیا جائے وگرنہ بقدر ضرورت ایک دفعہ ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ "حصی" چھوٹی چھوٹی کنکریاں ہوتی ہیں۔ یہاں کنکریوں کا ذکر تغلیبا ہوا ہے کیوں کہ مساجد کے فرش پر عموما یہی ہوتی ہیں۔ اس مسئلے میں کنکریوں، مٹی اور ریت کےمابین کوئی فرق نہیں۔ معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں بیان فرمایا ہے جو سجدے میں جاتے وقت مٹی برابر کرتا تھا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کرلو۔ ”آپ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں کہا“ یعنی جس نے آپ ﷺ سے اپنے متعلق پوچھا تھا، کہ وہ جہاں سجدہ کرتا ہے اس جگہ کی مٹی کو برابر کرتا ہے۔ یعنی سجدے کی جگہ کو برابر کرتا ہے یا اس پر سجدہ کرنے کے لیے اسے برابر کرتا ہے۔ (کہ اس کا کیا حکم ہے؟) آپ ﷺ نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہیں ایسا کرنا ہی ہو اورؤتمہیں اس کی ضرورت ہو تو پھر ایک دفعہ کرلیا کرو، ایک سے زیادہ بار نہ کرو۔ چنانچہ کنکریوں کو صاف کرنا مکروہ ہے اِلاّ یہ کہ کنکریوں کی وجہ سے سجدہ کرنا ممکن نہ ہو یعنی یہ بہت زیادہ اوپر نیچے ہوں اور پیشانی اس پر اتنی دیر نہ ٹھہر سکتی ہو جس سے فرض پورا ہو سکے۔ اس صورت میں ایک یا دو دفعہ انھیں برابر کر سکتا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلے میں دو روایات ہیں۔ ایک روایت میں ایک دفعہ برابر کرنے کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں دو بار برابر کرنے کا ذکر ہے۔ دونوں میں سے جو روایت زیادہ صحیح ہے اس کے مطابق ایک ہی دفعہ برابر کرے، اس سے زیادہ دفعہ نہیں۔ ”رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے“ میں نہی کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ (نماز میں) اس پر رحمت کا نزول ہو رہا ہوتا اور وہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یہ نہی کی علت ہے۔ یعنی کسی عقل مند کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ اتنے ہیچ کام میں لگ کر اتنی عظیم الشان نعمت کو وصول کرے۔ یہ بات علامہ طیبی رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ علت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کنکریاں صاف کرنے سے ممانعت اس لیے وارد ہے کہ نمازی اپنے دل کو کسی ایسے کام میں مشغول نہ کرے جو اسے اس کی طرف آنے والی اللہ کی رحمت سے غافل کر دے اور یوں وہ اس سے اپنا حصہ پانے سے محروم رہ جائے۔

تشریح: العربية

في حديث أبي ذر: قوله: (إذا قام أحدكم إلى الصلاة) أي: إذا دخل فيها، وقبل تكبيرة الإحرام لا يمنع. وأما النهي في قوله: (فلا يمسح الحصى) أي: فلا يعرض عن الصلاة لأدنى شيء؛ أي: لما فيه من قطع التوجه للصلاة، فتفوته الرحمة المسببة عن الإقبال على الصلاة، وهذا إذا لم يكن لإصلاح محل السجود، وإلا فيجوز مرة بقدر الضرورة. ومعلوم أن الحصى هي الحجارة الصغيرة، والتقييد بالحصى خرج مخرج الغالب؛ لكونه كان الغالب على فرش مساجدهم، ولا فرق بينه وبين التراب والرمل في هذه المسألة. حديث معيقيب أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ، قَالَ: «إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً». (أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في الرجل) أي: في شأن الرجل الذي سأله عن نفسه أنه (يسوي التراب) أي: في الصلاة (حيث يسجد؟) أي: في مكان سجوده أو لأجل سجوده عليه. فأجابه -عليه الصلاة والسلام-: (إن كنت فاعلا)، أي: لذلك ومحتاجًا له، (فواحدة): أي فافعل فعلة واحدة أو مرة واحدة لا أكثر، ويكره أن يمسح الحصى إلا أن لا يمكنه الحصى من السجود بأن اختلف ارتفاعه وانخفاضه كثيرا، فلا يستقر عليه قدر الفرض من الجبهة فيسويه حينئذ مرة أو مرتين؛ لأن فيه روايتين، في رواية "تسويه مرة"، وفي رواية تسويه مرتين، وفي أظهر الروايتين أنه يسويه مرة ولا يزيد عليها. وأما علة النهي ففي قوله: (فإن الرحمة تواجهه) أي: تنزل عليه وتقبل إليه، وهي علة للنهي، يعني فلا يليق لعاقل تلقى شكر تلك النعمة الخطيرة بهذه الفعلة الحقيرة، قاله الطيبي. وقال الشوكاني: هذا التعليل يدل على أن الحكمة في النهي عن المسح أن لا يشغل خاطره بشيء يلهيه عن الرحمة المواجهة له، فيفوته حظه منها.

  • يكره للمصلي أن يمسح الحصى العالق بمواضع السجود من بدنه.
  • يكره أن يمسح موضع سجوده من الأرض، فإن كان لابد من تسوية موضع سجوده، فليكن مرَّة واحدة.
  • الحكمة في هذا هو ما جاء في الحديث من أنَّ الرحمة تكون تلقاء وجهه، في هذه التربة، التي علقت بوجهه من أثر السجود، وتكون في موضع سجوده الذي ذكر الله -تعالى- فيه، وسبَّحه عنده.
  • خشية العبث المفضي إلى الإخلال بالصلاة، والمنافي للخشوع والتواضع، ويشغل المصلي، ولا مانع من إرادة الأمرين: المحافظة على الرحمة التي علقت به، والبعد عن العبث المنافي للخشوع.
  • يستحب لمريد الصلاة أن يسوِّيَ مكان صلاته وموضع سجوده؛ لئلا يحتاج إلى ذلك أثناء الصلاة، ولئلا ينشغل باله به في الصلاة.
  • جمهور العلماء حملوا ذلك على الكراهة، لا على التحريم؛ لأنَّ المخالفة ليست كبيرة، والحركة ليست كثيرة، فهو من مكروهات الصلاة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید