حدیث

لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے یہ بات بڑی سخت لہجے میں کی، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : «ما بَال أقْوَام يَرفعون أبْصَارَهم إلى السَّماء في صَلاتهم»، فاشْتَدَّ قوله في ذلك، حتى قال: «لَيَنْتَهُنَّ عن ذلك، أو لَتُخْطَفَنَّ أبْصَارُهم».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے یہ بات بڑی سخت لہجے میں کی، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی۔

تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ی کے لیے ضروری ہے کہ حالت نماز میں وہ پر سکون رہے اور خشوع و خضوع اختیار کرے۔ خشوع قلب کی علامت اعضا کا پرسکون ہونا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو نماز میں فضولیات اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ڈرایا ہے۔ کیوں کہ یہ نماز کے آداب اور رتبے کی منافی چیزيں ہیں؛ اس لیے کہ نمازی قبلہ رو، اپنے کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے محو گفتگو ہوتاہے۔ چنانچہ اس موقع پر آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا اللہ کے ساتھ بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انذار اور وعید میں مبالغہ سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو تنبیہ کی ہے، جو دوران نماز اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں کہ اس سے باز آ جائیں، ورنہ ان کی بینائی چھین لی جائے گی اور یہ اتنی تیزی سے ہو گا کہ انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور نعمت بصارت سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ نماز کی توہین کی سزا کے طور پر ہو گا۔

تشریح: العربية

يفيد هذا الحديث إلى ما ينبغي أن يكون عليه المصلِّي في صلاته من لزوم السكينة والخشوع، ومن علامات خشوع القلب سكون الجوارح؛ ولذلك حذَّر النبي صلى الله عليه وسلم أمَّته من العَبث في الصلاة ورفع البَصر فيها إلى السماء؛ لأنه أمْر مُنَاف لأدب الصلاة ومَقامها؛ فإنَّ المصلِّي يُناجي ربَّه تعالى ، وهو تجاهه في قِبلته، فرفع البَصر في هذا المقام إساءة أَدب مع الله؛ لذلك بالغ النبي صلى الله عليه وسلم في الإنذار والوعيد، وحذَّر هؤلاء الذين يرفعون أبصارهم إلى السماء أثناء الصلاة بأنَّهم إما أن ينتهوا عن ذلك، ويمتنعوا من فعله، أو ستُخطف أبْصارُهم، وتؤخذ بسرعة؛ بحيث لا يشعرون إلا وقد فَقَدوا نِعمة البَصر؛ جزاء لهم على استهانتهم بشأن الصلاة.

  • حُسن دعوة النبي -صلى الله عليه وسلم- وبيان الحق؛ لأنه -صلى الله عليه وسلم- لم يَكشف عن المُخالف؛ لأن المقصود بيان الحقِّ وقد حصل؛ ولأن فيه سَترًا على المخالف وأدعى للقبول.
  • النَّهي الأكيد، والوعيد الشَّديد على من رفع بَصره إلى السماء في الصلاة.
  • الخُشوع هو لبُّ الصلاة وروحُها، ويكون بالقلب والجوارح، والذي يرفع بصره إلى السماء، ويجيل نظره هاهنا، وهاهنا، لم يخشع قلبه ولا جوارحه.
  • عِظَم شأن الصلاة، وأنه يجب على المُصلِّي أن يكون فيها على كمال الأدب مع الله -عز وجل-.
  • وجوب الإنْكَار على من يرفع رأسه إلى السَّماء في الصلاة.
  • بيان قدرة الله؛ لأن ما هدَّد به النبي -عليه الصلاة والسلام- ممكن الوقوع.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید