حدیث

وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المؤمنين رضي الله عنها: أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنِيسَةً رَأَتْهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ، فَذَكَرَتْ لَهُ مَا رَأَتْ فِيهَا مِنَ الصُّوَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُولَئِكَ قَوْمٌ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الْعَبْدُ الصَّالِحُ، أَوِ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللهِ».

ترجمہ

امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے ایک گرجا کا ذکر کیا، جس کو انھوں نے حبشہ کے علاقے میں دیکھا تھا اور اس کا نام ماریہ تھا۔ اس میں جو تصویریں دیکھی تھیں وہ بیان کیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا ڈالتے۔ وہ لوگ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین مخلوق ہیں"۔

تشریح

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ذکر کیا کہ جب وہ حبشہ میں تھیں، تو انھوں نے وہاں ماریہ نام کا ایک گرجا گھر دیکھا تھا، جس میں بہت سی تصویريں اور نقش و نگار تھے۔ دراصل ان کو ان باتوں پر تعجب ہو رہا تھا۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان تصویروں کو گرجا گھروں میں رکھے جانے کے اسباب بتائے۔ آپ نے کہا : تم جن لوگوں کا ذکر کر رہی ہو، جب ان کے سماج کا کوئی صالح بندہ مر جاتا، تو وہ اس کی قبر پر مسجد بناکر اس میں نماز پڑھتے اور اس کے اندر ان کی تصویریں بنا ڈالتے۔ آپ نے بتایا کہ اس طرح کا کام کرنے والا انسان اللہ کی نظر میں سب سے بری مخلوق ہے۔ کیوں کہ اس کے اس کام سے شرک کے دروازے کھلتے ہيں۔

فوائد

  • قبروں پر مسجد بنانا، ان کے پاس نماز پڑھنا یا مسجد کے اندر کسی کو دفن کرنا حرام ہے۔ کیوں کہ اس سے شرک کے دروازے کھلتے ہيں۔
  • قبروں پر مسجد بنانا اور ان کے اندر تصویریں لگانا یہودیوں اور عیسائیوں کا عمل ہے۔ جس نے یہ کام کیا، وہ ان کے نقش قدم پر چلنا والا ہے۔
  • روح والی چیزوں کی تصویر رکھنا حرام ہے۔
  • جس نے قبر پر مسجد بنائی اور اس میں تصویر بنائی، وہ اللہ کی سب سے بری مخلوقوں میں سے ایک ہے۔
  • شریعت نے اس بات کا پورا انتظام کیا ہے کہ توحید کی مکمل حفاظت ہو سکے اور اس کے لیے شرک کی جانب لے جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا ہے۔
  • نیک بندوں کے بارے میں غلو کی ممانعت، کیوں کہ اس سے شرک کے دروازے کھلتے ہيں۔
تشریح: العربية

ذَكَرَتْ أُمُّ المؤمنين أُمُّ سَلَمَة رضي الله عنها للنبيِّ صلى الله عليه وسلم أنها لمَّا كانت بأرض الحَبَشة رأتْ كَنِيسة -يُقال لها مَارِيَة- فيها صورٌ وزَخارِفُ وتصاويرُ؛ تَعَجُّبًّا من ذلك! فبَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أسباب وضع هذه الصور؛ فقال: إن هؤلاء الذين تذكرين كانوا إذا مات فيهم الرجلُ الصالحُ بَنَوا على قبره مَسجدًا يُصَلُّون فيه، وصَوَّرُوا تلك الصور، وبَيَّنَ أنَّ فاعلَ ذلك شَرُّ الخلقِ عند الله تعالى؛ لأنَّ فِعلَه يؤدِّي إلى الشرك بالله تعالى.

  • تحريم بناء المساجد على القُبور، أو الصلاة عندها، أو دَفن الموتى في المساجد؛ سَدَّا لذَريعة الشِّرك.
  • بناء المساجد على القُبور، ونَصب الصُّور فيها، هو عمل اليَّهود والنَّصارى، وأنَّ من فعل هذا، فقد شَابَهَهم.
  • تحريم اتخاذ الصُّور لذَوَات الأرواح.
  • مَن بَنى مسجدًا على قَبر وصَوَّر فيه التصاوير، فهو مِن شَرِّ خَلْقِ الله تعالى.
  • حِماية الشَّريعة لجَنَاب التوحيد حماية كاملة، بسد جميع الوسائل التي قد تُؤدي إلى الشِّرك.
  • النهي عن الغلو في الصالحين؛ لأنه سببٌ للوقوع في الشرك.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید