حدیث

جو آدمی سنے کہ کوئی شخص مسجد میں کسی گم شدہ چیز کا اعلان کرکر کے ڈھونڈتا پھرتا ہے تو اسے کہے کہ: اللہ کرے یہ چیز تجھے نہ ملے۔ مساجد اس مقصد کے لیے تو نہیں بنائی گئیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من سمِع رجُلا يَنْشُدُ ضَالَّةً في المسجد فليقُل: لا رَدَّهَا الله عليك، فإنَّ المساجد لم تُبْنَ لهذا».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی سنے کہ کوئی شخص مسجد میں کسی گم شدہ چیز کا اعلان کرکر کے ڈھونڈتا پھرتا ہے تو اسے کہے کہ: اللہ کرے یہ چیز تجھے نہ ملے۔ مساجد اس مقصد کے لیے تو نہیں بنائی گئیں“۔

تشریح

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اِس حدیث سے یہ رہنمائی حاصل ہوتی ہے کہ جو شخص مسجد میں کسی گم شدہ چوپائے کے متعلق پوچھ رہا ہو تو اُسے یوں کہنا چاہیے کہ ’’اللہ تیری طرف اُسے نہ لوٹائے‘‘ یا پھر کہنا چاہیے کہ: تجھے وہ نہ ملے۔ جیسا کہ ایک اور حدیث میں آیا ہے۔ یہ اس شخص کے لیے مسجد کی تعظیم کو ترک کرنے پرا ایک قسم کی ڈانٹ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس ڈانٹ کی علت بیان کی جو اس شخص کو کی جاتی ہے جو اپنی گم شدہ شے کا اعلان مسجد میں کر رہا ہو۔ یہ علت آپ ﷺ کے اس فرمان میں ہے کہ "مساجد اس کام کے لیے تو نہیں بنائی گئیں۔" یعنی انہیں اللہ کے ذکر، نماز، علم اور اچھائی کی باتیں کرنے وغیرہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ چوں کہ یہ اعلان کرنے والا مسجد کو وہ مقام نہیں دے رہا جو اسے دینا چاہیے تھا چنانچہ مناسب ہے کے اس کے لیے اس کی گم شدہ شے نہ ملنے کی دعا کی جائے تاکہ وہ جو چاہتا ہے اس کی ضد کا اسے سزا ملے اور اس کی طرح کا کام کرنے سے (دیگر لوگوں کو) ڈرایا اور دور رکھا جا سکے۔ مختصر یہ ہے کہ یہ حدیث امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے قبیل سے ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔ جب کوئی شخص اس کے خلاف یہ دعا کرے تو اگر وہ شخص ڈر کر رک جائے تو ٹھیک ورنہ دوبارہ وہ اسے یہ بد دعا دے۔

تشریح: العربية

أرشد حديث أبي هريرة رضي الله عنه إلى أن من طلب بالمسجد شيئا ضائعا من بهيمة الأنعام، أن يقال له: (لا ردها الله عليك) أو (لا وجدت) -كما في رواية -، وهذا زجرٌ له عن ترك تعظيم المسجد. ثم جاء التعليل النبوي لهذا الزجر لمن نشد ضالته بالمسجد، وهذا في قوله -عليه الصلاة والسلام-: (فإن المساجد لم تبن لهذا): أي وإنما بُنِيَت لذكر الله تعالى والصلاة والعلم والمذاكرة في الخير ونحو ذلك، ولما وضع هذا المُنْشِد الشيء في غير محله ناسب الدعاء عليه بعدم الوجدان؛ معاقبة له بنقيض قصده وترهيبا وتنفيرا من مثل فعله. وفي الجملة فالحديث من قبيل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، ويشترط له شروطه، وإذا دعا عليه بذلك فإن انزجر وكف فذاك، وإلا كرره.

  • أنَّ من سمع من ينشد ضالة في المسجد، فليدْعُ عليه جهرًا، بقوله: لا ردها الله عليك؛ فإنَّ المساجد لم تبن لهذا.
  • هذا الحكم عامٌّ؛ سواء كانت حيوانًا، أو متاعًا، أو نقدًا، أو غير ذلك؛ بجامع أنَّ المساجد لم تبن لهذا.
  • تحريم نشدان الضالة في المسجد، ووجوب الدعاء عليه بهذا الدعاء وجوبًا كفائيًا، وإعلامه باستحقاقه الدعاء؛ حيث اتَّخذ المسجد لنشدان الضوال، وإشغال المصلين والمتعبدين، بأعمال الدنيا.
  • ظاهره أنَّه لو خرج عند باب المسجد فنشدها، فإنَّه لا يحرم؛ لأنَّه ليس من المسجد.
  • بيان ما بني له المسجد، بأنَّه للصلاة وذكر الله وتلاوة كتابه، والمذاكرة في الخير، ونحو ذلك.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید