ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن حكيم بن حزام رضي الله عنه مرفوعًا: «لا تُقَامُ الحدود في المساجد، ولا يُسْتَقَادُ فيها».
ترجمہ
حكيم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی قصاص لیا جائے“۔
تشریح
جلیل القدرصحابی حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مسجد میں کسی قسم کی حدود کا نفاذ کیا جائے، یعنی ایسی حدود جن کا تعلق اللہ سے ہو یا انسانوں سے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے مسجد کی حرمت پامال ہوتی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ مسجد زخم یا نجاست سے ملوث ہو جائے اور اس لیے بھی کہ مساجد کو نماز اور ذکر کے لیے بنایا گیا ہے نہ کہ حدود کے نفاذ کے لیے۔ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد میں حدود قائم کرنا اور ان میں قصاص لینا حرام ہے کیونکہ نہی حقیقت میں تحریم کے لیے ہے جیسا کہ اصولِ فقہ میں ثابت ہے۔ اور یہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں پایا جاتا جو اس کے حقیقی معنیٰ مراد لینے سے روکنے والا ہو۔
تشریح: العربية
يحكي الصحابي الجليل حكيم بن حزام رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن تقام الحدود في المساجد، أي: سائر الحدود، سواء المتعلقة بالله تعالى أو بالآدمي؛ لأن في ذلك نوع هتك حرمته، ولاحتمال تلوثه بجرح أو حدث، ولأنه إنما بني المسجد للصلاة والذكر لا لإقامة الحدود. والحديث دليل على تحريم إقامة الحدود في المساجد وتحريم الاستقادة فيها أي القصاص؛ لأن النهي كما تقرر في الأصول حقيقة في التحريم، ولا صارف له ههنا عن معناه الحقيقي.
- النَّهي عن إقامة الحدود وتنفيذها في المساجد، سواء أكان قتلًا، أو قطعًا، أو جلدًا.
- الحكمة في هذا -والله أعلم- أن إقامة الحدود يحصل فيها لَغَطٌ، وارتفاع أصوات، كما أنَّ الحد قد يلوث المسجد بالدم، أو غيره مما يخرُج ممن يقام عليه الحد.
- تحريم إقامة الحدود في المسجد؛ لأنَّ النَّهي يقتضي التحريم.