حدیث

قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ لوگ مسجدوں (کو تعمیر کرنے) کے سلسلے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگ جائیں گے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا تقوم السَّاعة حتى يَتَبَاهَى النَّاس في المسَاجد».

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت نہیں آئے گی، یہاں تک کہ لوگ مسجدوں (کو تعمیر کرنے) کے سلسلے میں ایک دوسرے پرفخر کرنے لگ جائیں گے“۔

تشریح

مساجد کے سلسلے میں مباہات کے معنی ہیں ان کی تعمیر، آرائش و زیبائش، بلندی اور ان کی چھتوں کی اونچائی پر ایک دوسرے پر فخر کرنا، مثلا آدمی دوسرے شخص سے کہے کہ میری مسجد تیری مسجد سے زیادہ اچھی ہے اور میری مسجد کی تعمیر تیری مسجد سے بہتر ہے وغیرہ وغیرہ۔ بسا اوقات یہ مباہات قول کی بجائے فعل (عمل) کے ذریعہ ہوتی ہے، مثلا مسجد کی آرائش و زیبائش اور اس کی عمارت کی بلندی میں مبالغہ کیا جائے؛ تاکہ دوسری سے زیادہ خوب صورت نظر آئے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ مساجد کے معاملے میں غلو نہ برتا جائے اور ان کی زیبائش نہ کی جائے؛ کیوں کہ مساجد اس مقصد کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔ انھیں تو نماز، اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے آباد رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ﴾ ”الله کی مسجدیں وہی آباد کرتا ہے، جو الله اور آخرت پر ایمان لایا اور نماز قائم کی“۔ عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: لوگوں کو بارش سے بچاؤ اور سرخ اور زرد رنگ مت کرو۔ مبادا یہ کہ تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا کر دو۔ ”أكنَّ“ کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کے لیے ایسی مسجد بناؤ کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوں، تو بارش ہونے پر انھیں بارش سے اور سورج کی گرمی سے بچائے۔ یعنی اپنا مقصد پورا کرے۔ انس رضی اللہ نے فرمایا: لوگ مساجد پر باہم فخر تو کریں گے، لیکن انھیں آباد کم ہی کریں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تم مساجد کی ایسے زیبائش کرو گے، جیسے یہود و نصاری نے کی۔ یہ شے یعنی مساجد کے سلسلے میں باہم فخر کرنا قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے، جو اس وقت ظاہر ہوگی، جب لوگوں کے احوال میں بگاڑ، ان کے دین میں نقص اور ایمان میں کمزوری آ جائے گی۔ جب ان کے اعمال اللہ کے لیے نہیں بلکہ ریا، شہرت اور فخر و مباہات کے لیے ہوں گے۔

تشریح: العربية

التَّباهي بالمساجد هو التَّفاخر بِحسن بِنائها وزَخرفتها وتَزويقها وعُلُوِّها وارتفاعها وارتفاع سُقوفها، بأن يقول الرجل للآخر: مسجدي أحْسَن من مسجدك، وبنائي لمسجدي أحْسَن من بنائك وهكذا. وقد تكون المُباهاة بالفعل دون القول، كأن يُبالغ كل واحد في تزيين مسجده، ورفع بنائه، وغير ذلك؛ ليكون أبْهَى من الآخر، فالواجب ترك الغُلو فيها، والتزين؛ لأن المساجد لم تُبن لهذا وإنما بُنيت لإعمارها بالصلاة وبِذكر الله تعالى وطاعته، -قال تعالى-: (إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ). وأمر عمر رضي الله عنه ببناء المسجد وقال: "أَكِنَّ الناس من المطر، وإيَّاك أن تُحمِّر أو تُصَفِّر فَتَفْتِنَ الناس" ومعنى أكنَّ أي ابن لهم مسجدًا يحفظهم من المطر إذا نزل وهم يصلون ومن حر الشمس، أي يؤدي الغرض، وقال أنس: "يَتباهون بها ثم لا يَعمرونها إلا قليلًا" وقال ابن عباس: "لَتُزَخْرِفُنَّهَا كما زخرفت اليهود والنصارى"، وهذه الظاهرة وهي التَّباهي بالمساجد من علامات الساعة، التي لا تقوم إلاَّ على تغير أحوال الناس ونقص دِينهم وضَعف إيمانهم، وحينما تكون أعمالهم ليست لله تعالى ، وإنما للرِّياء والسُّمْعَة والتَّفاخر.

  • دلَّ الحديث على تحريم التَّباهي بالمساجد، وأنه عَمل غير مقبول؛ لأنَّه لم يُعمل لله، وقد قال تعالى في الحديث القُدسي: (من عمل عملًا أشرك معي فيه غيري، تركته وشِركَه). رواه مسلم، ولا يَظن المُرائي أنَّه يكتفي بحبوط عمله، لا له ولا عليه، بل هو مستحق للذَّم والعقاب.
  • أنَّ نقص الإيمان, وضَعف الدِّين، والإقبال على زَهرة الحياة الدُّنيا من أمَارات الساعة وعلاماتها، وأنَّ على المرء الفَطِن الكَيِّس ألا تَغره هذه المظاهر، ولا تخدعه تلك الزِّينات، فإنَّما هي زائلة، ولا ينفع إلاَّ البَاقيات الصالحات.
  • أنَّ المسلم قد يقوم بالعمل الذي صورته الصلاح، ويظن أنَّه قام بعمل خَيري، ولكنه لم يَحْتَطْ لنفسه، فيدخل عليه الشيطان من جانب آخر، فينخدع فيبطل أصل عمله، فعلى العامل لوجه الله أن يحتاط لدينه، ولذا قال تعالى في حق مثل هؤلاء: (قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا * الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا ) [الكهف 103 ، 104].
  • النَّهي عن زَخرفة المساجد بالألوان والأصْبَاغ والنُّقوش، والكتابات؛ لما فيها من إشغال المصلين عند النظر إليها، فالواجب إزالة كل ما يشغل المصلي في صلاته ؛ ولهذا قال -صلى الله عليه وسلم- لعائشة -رضي الله عنها- عندما سترت جانب بيتها بستر له نقوش : (أمِيطي عنا قِرَامك هذا، فإنه لا تزال تصاويره تَعْرِض في صلاتي) رواه البخاري.
  • في الحديث علامة من علامات الساعة، فإذا حصل التَّباهي بين المسلمين، فإن هذا دليل على قُرب قيام الساعة.
  • الإشارة إلى أن الأفضل ألا تكون المُباهات في المساجد، وجه ذلك: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- ذَكر هذا الحديث على سبيل الذَّم وضَعف الإيمان في النُّفوس.
  • الرَّد على من أنْكَر بناء المساجد على وجْهٍ متواضع.
  • إثبات قيام الساعة وإثبات المَعاد، وهو معلوم من الدِّين بالضرورة، ولله الحمد.
  • مُعجزة ظاهرة لإخباره -صلى الله عليه وسلم- عما سَيقع بعده فإن تَزويق المساجد والتَّباهي بزخْرَفَتِها كَثر بين الناس في هذا الزَّمان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید