حدیث

مجھے مسجدوں کو بلند بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما أُمِرْتُ بِتَشْيِيد المساجد»، قال ابن عباس: لتُزَخْرِفُنَّها كما زَخْرَفَت اليهود والنصارى.

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مسجدوں کو بلند بنانے کا حکم نہیں دیا گیا“، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تم مسجدوں کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہود ونصاری نے آراستہ کیا ہے۔

تشریح

یہاں مساجد کو آراستہ کرنے سے مراد انہیں بلند اور بڑا بنانا ہے جیسا کہ امام بغوی رحمہ اللہ نے کہا ہے اور مساجد کو آراستہ وپیراستہ کرنے میں مبالغہ سے کام لینا جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ یہود ونصاری کا شیوہ رہا ہے۔ رہا مسجد کو بلند بنانا اور اس کی عمارت کو مستحکم ومضبوط کرنا بغیر زیب و زینت اور سجاوٹ کے جس سے اس کی بناوٹ مضبوط رہے تو یہ مکروہ نہیں ہے، جب تک کہ اس میں شیخی، ریاکاری اور شہرت نہ ہو، جیسا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے: ”جس کسی نے اللہ کے لیے کوئی مسجد تعمیر کی، تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں اسی کے مثل ایک گھر بنائے گا“۔ نبی ﷺ کی مسجد کچی اینٹ اور اس کی چھت کھجور کی شاخ اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کی تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا تھا، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس کی لکڑی اورکھجور کی شاخ بوسیدہ ہو گئی تو اسے پہلے کی طرح تعمیر کرادی اور اس میں تھوڑا اضافہ کردیا، اور جب عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو اس میں بہت زیادہ اضافہ کردیا گیا، انہوں نے اس کی دیواروں کو پتھروں اور چونا سے پلاستر کرا دیا، اس کے ستون پتھروں سے اور چھت ساگوان کی لکڑی سے بنوا دی، اور اس میں فائدہ مند چیزیں مضبوطی کے لیے ڈال دیں جس کا مقصد سجاوٹ نہیں، بلکہ مضبوطی کے لیے ایسا کیا تھا،اور چونے کا پلستر بغیر زیب وزینت کے تھا۔ اور رہا نقش ونگار والے پتھروں کا معاملہ تو اسے ان کے حکم سے نقش نہیں کیا گیا تھا بلکہ نقش و نگار والا پتھر ہی انہیں ملا تھا، اور جن صحابہ نے ان پر نکیر کی تھی ان کے پاس منع کرنے کی کوئی دلیل نہیں تھی اِلاّ یہ کہ وہ انہیں نبی ﷺ اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرح مسجد کی تعمیر بغیر سجاوٹ کے کرنے پر ابھارا تھا اور یہ مساجد کی مستحکم تعمیر کرنے کے سلسلہ میں ممانعت وکراہت کی متقاضی نہیں ہے۔

تشریح: العربية

المراد بتشييد المساجد هنا رفع البناء وتطويله، كما قال البغوي، والمبالغة في زخرفته، والزخرفة كما في كلام ابن عباس رضي الله عنهما من فعل اليهود والنصارى. وأما تشييد المسجد وإحكام بنائه بما يستحكم به الصنعة من غير تزيين وتزويق وزخرفة فليس بمكروه إذا لم يكن مباهاة ورياء وسمعة؛ لما في حديث عثمان بن عفان: "من بنى لله مسجداً بنى الله له مثله في الجنة". كان مسجد النبي صلى الله عليه وسلم باللَّبِن، وسقفه بالجريد، وعُمُده خشب النخيل، ولم يزد فيه أبو بكر رضي الله عنه ، ولما نخرت خشبه وجريده زمن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ، أعاده على بنائه الأول، وزاد فيه، ولما كان في عهد عثمان رضي الله عنه زاد فيه زيادة كبيرة، وبنى جدرانه بالأحجار والجص، وجعل عُمُده من الحجارة، وسقفه الساج، فأدخل فيه ما يفيد القوة، ولا يقتضي الزخرفة، وكل ما صنعه كان من باب الإحكام والتجصيص من غير تزويق وزخرفة، وأما الحجارة المنقوشة فلم يكن نقشها بأمره بل حصلت له كذلك منقوشة، ولم يكن عند الذين أنكروا عليه من الصحابة دليل يوجب المنع إلا الحث على اتباع ما فعله صلى الله عليه وسلم وعمر في بناء المسجد من ترك الرفاهية، وهذا لا يقتضي منع التشييد بمعنى إتقان البناء ولا كراهته.

  • قول ابن عباس: لتزخرف كما زخرفت اليهود والنصارى معابدهم، هذا الإدراج عن ابن عباس مهم، له حكم الأخبار النبوية؛ فإنَّ فيه من أنباء الغيب، فلا يكون بالرأي، وقد وقع هذا الأمر.
  • دلَّ ظاهر الحديث على تحريم الزخرفة والتزويق في المساجد؛ لأنَّه من عمل أهل الكتاب، والتشبُّه بهم محرَّم.
  • زخرفة المساجد من البدع في الدين، علاوة على ما فيه من المحاذير الشرعية، كـ: الإسراف في النفقة، وإشغال القلوب عن الخشوع الذي هو روح ولبّ العبادة.
  • لا يدخل في النهي عن تشييد المساجد العناية بتوسعتها وإحكام بنائها في كل أجزائها، وتجهيزها بكل ما هو من مستلزمات العصر على الوجه المشروع.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید