ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن يَزيد بن الأسْود رضي الله عنه : أنَّه صلَّى مع النبي صلى الله عليه وسلم الصبح، فذَكر الحديث. قال: ثم ثار الناسُ يأخذون بيده يمْسَحون بها وجوههم، قال: فأخذتُ بيده فمسحتُ بها وجهي، فوجدتُها أَبْرَد من الثلج، وأطْيَبَ ريحًا من المِسْك».
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ پھر پوری حدیث بیان کی، جس میں وہ کہتے ہیں: پھر لوگ تیزی سے اٹھے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے پر پھیرا، تو پایا کہ آپ کا ہاتھ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور اس سے مشک سے کہیں بهتر خوشبو پھوٹ رہی تھی
تشریح
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، تو دیکھا کہ لوگ تیزی سے اٹھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ہاتھ پکڑ کر اسے برکت حاصل کرنے کے ارادے سے اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ چنانچہ انھوں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر پھیرا، تو پایا کہ وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور اس سے مشک سے کہیں بهتر خوشبو پھوٹ رہی تھی۔
تشریح: العربية
صلَّى يزيد بن الأسود مع النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح، فرأى الناس يقومون مسرعين إلى النبي صلى الله عليه وسلم يأخذون بيده يمسحون بها وجوههم يتبركون بها، فأخذ بيد النبي صلى الله عليه وسلم فمسح بها وجهه، فوجدها أبرد من الثلج، وأطيب ريحًا من المِسْك.
- مشروعية التبرك بملامسة النبي -صلى الله عليه وسلم-, ومن ذلك التبرك بعرق النبي -صلى الله عليه وسلم- وشعره, وفضل وضوئه -صلوات الله وسلامه عليه-، وهذا النوع من التبرك مختص بالأنبياء دون غيرهم من الأولياء والصالحين.
- يد النبي -صلى الله عليه وسلم- كانت أبرد من الثلج وأطيب ريحًا من المسك.