ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس بن مالك رضي الله عنه ، قال: دخَل علينا النبي صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عِنْدَنا، فعَرِقَ، وجاءت أمِّي بقَارُورَة، فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ العَرَق فيها، فاستَيْقَظ النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «يا أمَّ سُليم ما هذا الذي تَصْنَعِين؟» قالت: هذا عَرَقُك نَجْعَله في طِيبِنا، وهو مِنْ أَطْيَب الطِّيبِ.
ترجمہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے یہاں آئے پھر ہمارے یہاں ہی قیلولہ کیا تو آپ کے جسم سے پسینہ نکلنے لگا تو میری ماں ایک شیشی لے آئی اور اس میں آپ کا پسینہ جمع کرنے لگی۔ اتنے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیدار ہو گئے، تو فرمایا : "اے ام سلیم! تم یہ کیا کر رہی ہو؟" انھوں نے جواب دیا: یہ آپ کا پسینہ ہے، اسے ہم اپنی خوشبو میں ملا لیں گے، کیوں کہ یہ عمدہ ترین خوشبوؤں میں سے ہے۔
تشریح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے پھر ان ہی کے گھر قیلولہ کے وقت سوگئے تو ان کی ماں ایک شیشی لے آئیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم کا پسینہ لے کر اس میں رکھنے لگیں۔ اسی درمیان آپ جاگ گئے اور پوچھا کہ وہ پسینہ لے کر کیا کر رہی ہیں، تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ آپ کا پسینہ لے کر اسے اپنی خوشبو میں ملانا چاہتی ہیں، جسے ان کے گھر کے لوگ استعمال کرتے ہیں، کیوں کہ آپ کا پسینہ اعلی ترین خوشبووں میں شامل ہے۔
تشریح: العربية
يحكي أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليهم في بيتهم فنام عندهم وقت القيلولة، في نصف النهار، فجاءت أم أنس بوعاء من زجاج، فأخذت من عرق النبي صلى الله عليه وسلم ووضعته فيه، فاستيقظ النبي صلى الله عليه وسلم فسألها عن الذي تصنعه بعرقه، فأخبرته أنها تأخذ عرقه صلى الله عليه وسلم فتخلطه في الطيب الذي يتطيبون منه، وهو من أفضل الطيب.
- أن عرق النبي -صلى الله عليه وسلم- من أفضل الطيب حقيقةً، وهذه فضيلة من خصائصه.
- التبرك بكل ما كان من النبي -عليه الصلاة والسلام-.
- جواز الخلوة مع المحارم، والنوم عندهن؛ لأن أم سليم كانت ذات محرم منه -صلى الله عليه وسلم- من الرضاعة.