حدیث

اے اللہ کے رسول! میرا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو میں نے آپ کے وضو کے پانی میں سے پیا اور پھر آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی مانند تھی

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن الجعْد، قال: سمعتُ السَّائِب بن يَزيد، يقول: ذهبتْ بي خالتي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إنَّ ابنَ أختي وَجِعٌ. فمَسَح رأسي ودعا لي بالبَرَكة، ثم توضَّأ، فشربتُ من وَضوئه، ثم قمتُ خَلْف ظهره، فنَظَرتُ إلى خاتَم النبوة بيْن كتِفَيْه، مثل زِرِّ الحَجَلَة.

ترجمہ

جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید کو کہتے ہوئے سنا ہے : میری خالہ مجھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور بولیں کہ اے اللہ کے رسول! میرا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو میں نے آپ کے وضو كے پانی سے پیا اور پھر آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی مانند تھی۔

تشریح

سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ان کی خالہ انھیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور عرض کیا کہ ان کا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو سائب رضی اللہ عنہ نے آپ کے اعضا سے ٹپکنے والے وضو کے پانی میں سے کچھ پیا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے کھڑے ہوئے، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی طرح تھی۔

تشریح: العربية

يخبر السائب بن يزيد أن خالته ذهبت به إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته أن ابنَ أختها مريض، فمسح رأسه ودعا له بالبركة، ثم توضَّأ، فشرب السائب من الماء المتقاطر من أعضائه الشريفة عند الوضوء، ثم قام خلف ظهر النبي صلى الله عليه وسلم ، فنظر إلى خاتم النبوة بين كتفيه صلى الله عليه وسلم ، وهو مثل بيضة الحمامة.

  • خاتم النبوة بين كتفي النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو مثل بيضة الحمامة.
  • فضيلة السائب بن يزيد -رضي الله عنهما- حيث مسح النبي -صلى الله عليه وسلم- رأسه ودعا له بالبركة.
  • طهارة الماء المستعمل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید