ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن سَرْجس، قال: رأيتُ النبي صلى الله عليه وسلم وأكلتُ معه خُبْزا ولحْمًا، أو قال ثَرِيدًا، قال فقلتُ له: أَسْتَغْفَرَ لك النبي صلى الله عليه وسلم ؟ قال: نعم، ولك، ثم تَلا هذه الآية {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] قال: ثم دُرْتُ خَلْفَه فنَظَرْتُ إلى خاتَم النُّبوة بين كَتِفَيْه، عند ناغِض كَتِفِه اليُسْرى، جُمْعًا، عَلَيْه خِيلانٌ كأمْثال الثَّآلِيلِ.
ترجمہ
عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا یا پھر کہا کہ ثرید کھایا۔ ان سے اس بات کو روایت کرنے والے کا کہنا ہےکہنا ہے کہ میں نے ان سے کہا: کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کے لیے مغفرت طلب کی ہے؟ تو کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی۔ پھر یہ آیت پڑھی: {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] (اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی)۔ وہ کہتے ہیں: پھر میں گھوم کر آپ کے پیچھے آیا اور آپ کے دونوں کندھوں کے بیچ, بائیں مونڈھے کے اوپری حصے سے قریب مہر نبوت دیکھی۔ وہ بند مٹھی کی طرح تھی، جس پر مسوں کی طرح کچھ تل تھے۔
تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی عبداللہ بن سرجس کہتے ہيں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا۔ ان کے شاگرد نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے آپ کے لیے مغفرت طلب کی ہے، تو کہا کہ ہاں! ساتھ ہی تمھارے لیے اور تمام ایمان والوں کے لیے بھی کی ہے، کیوںکہ اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ہے : {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] (اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی)۔ پھر عبد اللہ بن سرجس نے ان کو بتلایا کہ وہ گھوم کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے آئے اور آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو آپ کے بائیں مونڈھے کے اوپری حصے سے قریب بند مٹھی کی شکل کی تھی اور جس پر کچھ ابھرے ہوئے نشانات تھے جن کا رنگ پورے جسم کے رنگ سے الگ تھا۔ یاد رہے کہ عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان لوگوں کی حدیثوں کی مخالف نہیں ہے، جنھوں نے مہر نبوت کو گنجلک بال کہا ہے یا کبوتر کے انڈے سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ ان سارے اوصاف کا ایک ساتھ اس میں پایا جانا ممکن ہے۔
تشریح: العربية
يقول الصحابي عبد الله بن سرجس، أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم وأكل معه خبزًا ولحمًا، فسأله تلميذه: هل استغفر لك النبي صلى الله عليه وسلم ؟ فقال: نعم، واستغفر لك أنت أيضًا ولجميع المؤمنين؛ لأن الله تعالى أمره بذلك فقال: {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] ثم أخبره عبد الله بن سرجس أنه دار خلف النبي صلى الله عليه وسلم فنظر إلى خاتم النبوة بين كتفيه، عند أعلى كتفه الأيسر، على هيئة جمع الكف، عليه علامات بارزات تخالف لونها لون سائر جسده صلى الله عليه وسلم . وهذا لا يخالف رواية من وصف خاتم النبوة بالشعرات المجتمعة ومن شبهها ببيض الحمامة، فكل ذلك يمكن اجتماعه.
- خاتم النبوة كان أعلى الكتف الأيسر للنبي -صلى الله عليه وسلم- على هيئة جمع الكف، عليه علامات بارزات تخالف لونها لون سائر جسده -صلى الله عليه وسلم-.
- عبد الله بن سرجس رأى النبي صلى الله عليه وسلم وأكل معه واستغفر له النبي -صلى الله عليه وسلم-.
- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- استغفر لجميع المؤمنين.