حدیث

نبی کریم ﷺ مدینے کے ایک بلند مقام پر چڑھے۔ پھر فرمایا: کیا تم لو گ بھی دیکھ رہے ہو، جو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب) تمھارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما قال: أشرفَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم على أُطُم من آطام المدينة، فقال: «هل ترون ما أرى؟» قالوا: لا، قال: «فإنِّي لأرى الفتنَ تقع خِلال بيوتكم كوَقْع القَطْر».

ترجمہ

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینے کے ایک بلند مقام پر چڑھے۔ پھر فرمایا: کیا تم لو گ بھی دیکھ رہے ہو، جو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب ) تمھارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔

تشریح

رسول اللہ ﷺ نے مدینے کے بلند قلعوں میں ایک اونچی جگہ سے دیکھا اور صحابہ سے فرمایا کہ کیا جو میں دیکھ رہا ہوں تمھیں نظر آ رہا ہے؟ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ فتنے تمھارے گھروں کے درمیان اس طرح اتر رہے ہیں جیسے موسلادھار بارش ہورہی ہو! یہ در اصل مدینے میں ہونے والی جنگوں اور فتنوں کی طرف اشارہ تھا، جیسے عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور واقعۂ حرہ وغیرہ۔

تشریح: العربية

نظر النبي صلى الله عليه وسلم من مكانٍ عالٍ فوق حصن من حصون المدينة فقال لأصحابه: هل ترون ما أرى؟ إني أرى الفتن تقع وسط بيوتكم كما يقع المطر بكثرة وغزارة. وهو إشارة إلى الحروب والفتن الواقعة في المدينة، كمقتل عثمان، ووقعة الحرة وغيرها.

  • فيه إشارة إلى الحروب الجارية بينهم، كقتل عثمان -رضي الله عنه- ويوم الحرة.
  • وفيه معجزة ظاهرة للنبي -صلى الله عليه وسلم- إذ أخبر بشيء فوقع كما أخبر.
  • هذا الحديث مما أنذر النبي -صلى الله عليه وسلم- به أمته، وعرفهم قرب الساعة لكي يتوبوا قبل أن يأتي عليهم وقت غلق باب التوبة.
  • وفيه إثبات أشراط الساعة وعلاماتها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید