حدیث

وتر حق ہے؛ جو چاہے سات پڑھ لے، جو چاہے پانچ پڑھ لے، جو چاہے تین پڑھ لے اور جو چاہے ایک پڑھ لے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الوِتر حَق، فمن شاء أوْتَر بِسبْعٍ، ومن شاء أوْتَر بخمس، ومن شاء أوْتَر بثلاث، ومن شاء أوْتَر بواحدة».

ترجمہ

ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وتر حق ہے؛ جو چاہے سات پڑھ لے، جو چاہے پانچ پڑھ لے، جو چاہے تین پڑھ لے اور جو چاہے ایک پڑھ لے“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: ”وتر حق ہے“ حق ثبوت کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی سنت سے ثابت ہے۔ اس میں یک گونہ تاکید ہے۔ یہ وجوب کے معنی میں بھی آتا ہے۔ لیکن یہاں مراد پہلا معنی ہے، یعنی یہ سنت مؤکدہ ہے۔ کیوں کہ بہت سارے واضح دلائل اس کے عدم وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک روایت طلحہ بن عبیداللہ کی ہے، جسے شیخین نے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص اہل نجد میں سے رسول اللہ ﷺکے پاس آیا... اس حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں“۔ اس نے پوچھا کہ کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں! الا یہ کہ تو نفل پڑھے۔ چنانچہ اگر یہ واجب ہوتا، تو اسے پانچ نمازوں کے ساتھ بیان کیا جاتا۔ نیز آپﷺ نے فرمایا: ”پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں جو انہیں ادا کرلے گا اور ان کے حق میں کسی چیز کو بھی کم تر سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا تو اللہ کے ہاں اس کے لئے عہد ہے کہ اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا“۔ اس کے عدم وجوب کے دلائل میں سے بخاری و مسلم میں موجود عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی وہ روایت بھی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، آپﷺ اس حدیث میں فرمایا: ”ان کو یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں“۔ یہ سب سے بہترین دلائل میں سے ہے؛ کیوں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن آپﷺ کی وفات سے کچھ ہی دنوں پہلے بھیجا تھا۔ اس کی ایک دلیل علی رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت بھی ہے: ”وتر کی نماز فرض نماز کی طرح واجب نہیں“۔ چنانچہ اس حدیث میں ’حق‘ سے مراد وتر کی تاکید اور فضیلت کو دو چند کرنا اور یہ بتانا ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے۔ یہی بات درست ہے۔ ”جو چاہے سات وتر پڑھے اور جو چاہے پانچ“ یعنی دو دو رکعتیں پڑھے اور پھر ایک رکعت پڑھ کر انھیں طاق بنالے۔ یہی اصل ہے کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔(متفق علیہ) اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ ساری رکعتیں مسلسل پڑھتا جائے اور صرف آخری رکعت ہی میں بیٹھے۔ یہ بھی جائز ہے اور آپﷺ سے بھی ثابت ہے۔ جیسا کہ ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سورۂ اعلیٰ پڑھتے، دوسری رکعت میں سورۂ کافرون اور تیسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھتے اور آخر میں سلام پھیرتے۔ (سنن نسائي) جب کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔ (سنن نسائی) شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں کہ وتر تین ،پانچ، سات اور نو رکعت پڑھنا جائز ہے۔ اگر کسی کو تین پڑھنے ہیں، تو اس کی دو صورتیں ہیں اور دونوں ہی مشروع ہیں: پہلی صفت یہ ہے کہ تینوں رکعتیں مسلسل ایک ہی تشہد کے ساتھ پڑھی جائیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا جائے اور ایک رکعت الگ سے پڑھ لی جائے۔ افضل یہ ہے کہ دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دے، پھر ایک رکعت پڑھے؛ تاکہ اس کی ساری نماز طاق ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا اکثر عمل اسی کے مطابق تھا۔ اگر کوئی صرف ایک وتر پڑھنا چاہے، تو بھی جائز ہے۔ یعنی صرف ایک رکعت پڑھ لے۔ اس کے ساتھ جفت رکعتیں نہ ملائے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: "الوِتر حَقٌّ" الحَقُّ: يأتي بمعنى الثُّبوت، أي: ثابت في السُّنة، وفيه نوع تأكيد، ويأتي بمعنى الوجوب، والمراد به هنا الأول: تأكد مشروعيته؛ لورود الأدلة الصريحة الدَّالة على عدم وجوبه. منها : ما رواه الشيخان من حديث طلحة بن عبيد الله قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من أهل نَجد الحديث، وفيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (خمس صلوات في اليوم والليلة) قال: "هل عليَّ غيرها" قال: (لا إلا أن تطوع) فلو كان واجبا لذَكره مع الصلوات الخمس. ومنها: قوله صلى الله عليه وسلم : (خمس صلوات كَتبهن الله على العِباد، فمن جاء بِهن لم يُضَيِّع مِنهن شيئا؛ اسْتِخْفَافَا بحقهن، كان له عند الله عهد أن يُدخله الجَنَّة..). ومن الأدلة على عدم وجوبه: ما رواه الشيخان من حديث بن عباس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم : "بعث معاذا إلى اليمن الحديث" وفيه: "فأعلمهم أن الله افترض عليهم خمس صلوات في اليوم والليلة" وهذا من أحْسَن ما يُستدل به؛ لأن بَعْث معاذ كان قبل وفاته صلى الله عليه وسلم بيسير. ومن الأدلة أيضا عن علي رضي الله عنه : (الوِتر ليس بِحتم..). وعلى هذا يكون المُراد، بقوله: "حَقٌّ" زيادة في تأكيده وفضيلته، وأنه سُنة مؤكدة وذلك حَق. "فمن شاء أوْتَر بِسبْعٍ، ومن شاء أوْتَر بخمس". يعني: يصلي ركعتين ركعتين، ثم يوتر بواحدة، وهذا هو الأصل؛ لقوله صلى الله عليه وسلم : (صلاة الليل مثْنَى مثْنَى) متفق عليه. ويحتمل أن يَسردها سَردا ولا يجلس إلا في الركعة الأخيرة، وهذا جائز، وقد جاء من فعله صلى الله عليه وسلم كما في مسند الإمام أحمد من حديث أمِّ سلمة رضي الله عنها قالت: "يوتر بِسبع وبِخمس لا يَفصل بينهن بسلام ولا بكلام". وفي أبي داود من حديث عائشة رضي الله عنها :" ويوتر بخمس، لا يقعد بينهن إلا في آخِرهن". "ومن شاء أوْتَر بثلاث". يعني: يصلي ركعتين ثم يُسلم، ثم يصلي ركعة واحدة؛ لقوله صلى الله عليه وسلم : (صلاة الليل مثْنَى مثْنَى)، متفق عليه. ويحتمل أن يكون المراد: سَردها، أي: يصلي ثلاثا سردًا لا يجلس إلا في الركعة الأخيرة، وقد ثبت ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم من حديث أبي بن كعب قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في الوتر بسبح اسم ربك الأعلى، وفي الركعة الثانية بقل يا أيها الكافرون، وفي الثالثة بقل هو الله أحد، ولا يُسلِّم إلا في آخِرهن". رواه النسائي. وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم : "كان لا يُسلم في ركعتي الوتر" رواه النسائي. قال الشيخ ابن عثيمين رحمه الله : "يجوز الوتر بثلاث، ويجوز بخمس، ويجوز بسبع، ويجوز بتسع، فإن أوتر بثلاث فله صفتان كلتاهما مشروعة: الصفة الأولى: أن يسرد الثلاث بتشهد واحد. الصفة الثانية: أن يسلم من ركعتين، ثم يوتر بواحدة". والأفضل أن يُسلم من كل ركعتين، ثم يصلي واحدة توتر له ما قد صلى؛ لأن فيه زيادة عمل، وهو الأكثر من فعله صلى الله عليه وسلم . "ومن شاء أوْتَر بواحدة". يعني: ركعة مفردة لا يتقدمها شَفع.

  • سُنية صلاة الوتر والتأكيد عليها؛ لقوله: (حَقٌّ).
  • أن صلاة الوتر قد وردت على أوجه متعددة.
  • جواز الإيتار بسبع ولو سَردا، والأفضل أن يَفصل بين كل ركعتين بسلام.
  • إذا أوتر بسبع فإنه يصليها بتشهدين، الأول بعد الركعة السادسة وقبل السابعة، والثاني في آخر صلاته، كما رواه مسلم.
  • جواز الإيتار بخمس ولو سَردا، والأفضل أن يَفصل بين كل ركعتين بسلام.
  • جواز الإيتار بثلاث ولو سَردا، والأفضل أن يصلِّي ركعتين، ثم يسلم ثم يوتر بواحدة؛ لأنه أكثر عملا.
  • أن أقل الوتر ركعة واحدة، وأن الركعة المفردة جائز من غير كراهة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید