ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عربی متن
عن علي رضي الله عنه قال: «الوِتر ليس بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الصلاة المَكتوبة، ولكن سُنَّة سَنَّها رسول الله صلى الله عليه وسلم ».
ترجمہ
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نمازوں کی طرح واجب نہیں ہے؛ بلکہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت ہے۔
تشریح
حدیث کا مفہوم: پنجگانہ نماز کی طرح نماز وتر واجب نہیں ہے، یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے، یعنی نبیﷺ نے وتر کی نماز کو ہمارے لیے مسنون کیا ہے ہم پر واجب نہیں کیا۔ یہ جملہ در اصل ”ليسَ بِحَتْمٍ“ کی تاکید ہے۔ پس وتر کی نماز مستحب اور مسنون ہے۔
تشریح: العربية
معنى الحديث: صلاة الوتر ليس بواجبة، كالصلوات الخَمس، ولكن سُنَّة سَنَّها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، أي: أن النبي صلى الله عليه وسلم سَنَّ لنا الوِتر ولم يُوجبه علينا، وهذا تأكيد لقوله: "ليس بِحَتم"، فالوتر صلاة مستحبة ومندوبة فقط.
- أن الصلوات الخَمس من الفرائض.
- أن صلاة الوِتر سُنة.