حدیث

بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز دی ہے اس کو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي تَمِيم الجَيْشَانِيِّ قال: سمعت عمرو بن العَاص يقول: أخبرني رَجُل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الله عز وجل زَادَكُمْ صلاة فصلُّوها فيما بَيْن صلاة العِشَاء إلى صلاة الصُّبح، الوِتر الوِتر»، أَلَا وإنَّه أبو بَصْرَة الغِفَاري، قال أبو تَميم: فكنت أنا وأبو ذَرٍ قاعِدَين، قال: فأخذ بِيَدِي أبو ذَرٍّ فانطلقنا إلى أبي بَصْرة فوجدناه عند الباب الذي يَلِي دار عَمرو بن العاص، فقال أبو ذَرٍّ: يا أبا بَصْرَة آنت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الله عز وجل زَادَكُمْ صلاة، فصلُّوها فيما بَيْن صلاة العشاء إلى صلاة الصُّبح الوِتر الوِتر؟» قال: نعم، قال: أنْتَ سَمِعْتَه؟ قال: نعم، قال: أنت سمعته؟ قال: نعم.

ترجمہ

ابو تمیم جیشانی فرماتے ہیں کہ:میں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے اصحاب رسول میں سے کسی نے یہ بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے اس کو نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے، خبردار! (جنھوں نے خبر دی) وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابو تمیم کہتے ہیں کہ میں اور ابو ذر دونوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو ذر نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ابوبصرہ کی طرف چل نکلے ۔ہم ان کے گھر کے دروازے پر آئے جو کہ عمرو بن عاص کے گھر کے ساتھ ہی تھا۔ ابو ذر نے کہا اے ابوبصرہ! کیا تو نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز دی ہے اس کو نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے۔ فرمایا :ہاں۔ کہا کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر کہا کہ کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: ”بے شک اللہ عزوجل نےتمہارے لیے ایک نماز زیادہ کی ہے“ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مزید ایک ایسی نماز دی تھی جس کو وہ پہلے اس کیفیت اور انداز سے نہیں پڑھتے تھے اور وہ وتر ہے۔ اور یہ بطور احسان وارد ہوئی ہے جیسا کہ فرمانِ رسول ہے: ”اللہ تعالیٰ نے تم پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں تاکہ تمہیں اجر و ثواب سے نوازے لیکن اسی پر اکتفا نہیں بلکہ تمہارے لیے تہجد اور وتر کو بھی مشروع کیا ہے تاکہ تم پر مزید احسان پر احسان کرے“، لہذا، اس کو پڑھو یہ حکم ہے اور قاعدہ یہی ہے کہ حکم وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ اس حدیث اور دیگر اس جیسی احادیث کے ظاہر سے اس نماز کا وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن بہت سارے صحیح اور صریح دلائل نے اس کو وجوب سے پھیر دیا ہے یعنی وتر کی نماز فرض نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد نماز وتر کی ادائیگی کے لیے وقتِ زمانی کا تعین کیا جوکہ نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین، یعنی نماز وتر کا وقت نماز عشاء سے فارغ ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ جب نماز عشاء پڑھ لی تو نمازِ وتر کا وقت شروع ہو جاتا چا ہے جمع تقدیم کرتے ہوئے عشاء کو مغرب کے ساتھ جمع کر لیا گیا ہو۔ اور اس کا آخری وقت طلوعِ فجر ہے۔ جب فجر طلوع ہو گئی نماز وتر کا وقت ختم ہو گیا،اوراگر وقت ہے تو اسے پورا کرے۔ پھر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خبردار! وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ہیں“ یعنی جس نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی تھی وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے۔ ابو تمیم کہتے ہیں کہ میں اور ابو ذر دونوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو ذر نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ابو بصرہ کی طرف چل نکلے ۔ہم ان کے گھر کے دروازے پر آئے جوکہ عمرو بن عاص کے گھر کے ساتھ ہی تھا، یعنی جب ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ کےحوالے سے یہ خبر ملی تو اس کی صحت کی تاکید کے لیے دونوں ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کی طرف چل نکلے۔جب ان کی ملاقات ابو بصرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ان سے نبی کریمﷺ سے نقل کی جانے والی بات کی صحت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا :ہاں۔ کہا کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا :ہاں۔ پھر کہا کہ کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ انھوں نے نبی کریمﷺ سے نقل کرنے والی بات ”إن الله زادكم صلاة“ کے بارے میں تاکید کے ساتھ بتایا کہ یہ صحیح ہے۔

تشریح: العربية

"إن الله عز وجل زَادَكُمْ صلاة" المعنى: أن الله تعالى زادهم صلاة لم يكونوا يصلونها من قَبْل على تلك الهيئة والصورة، وهي: الوتر، وهذا وارد على سبيل الامتنان، كأنه قال: إن الله فَرض عليكم الصلوات الخَمس ليؤجركم بها ويثيبكم عليها، ولم يَكتف بذلك، فشرع لكم التهجد والوتر؛ ليزيدكم إحسانا على إحسان، "فصلُّوها" وهذا أمر، والأصل في الأمر الوجوب، لكن هذا الحديث وغيره من الأحاديث التي ظاهرها وجوب صلاة الوتر؛ قد صُرفت بالأدلة الصريحة الصحيحة. ثم جاء تحديد وقت صلاة الوتر الزماني: "فيما بَيْن صلاة العشاء إلى صلاة الصُّبح" يعني: أن وقت صلاة الوتر يدخل بعد الفَراغ من صلاة العشاء، فإذا صلَّى العشاء دخل وقت صلاة الوتر، ولو جَمعها مع المَغرب جمع تقديم، وأمَّا آخر وقتها فطلوع الفجر، فإذا طلع الفجر خرج وقت صلاة الوتر، وإن كان فيها أتمها. ثم قال عمرو بن العاص رضي الله عنه: "ألا وإنه أبو بَصْرَة الغِفَاري" أن الذي أخبر عمرو بن العاص هو: أبو بَصْرَة الغِفَاري رضي الله عنه. " قال أبو تَميم: فكنت أنا وأبو ذَرٍ قاعِدَين، قال: فأخذ بِيَدِي أبو ذَرٍّ فانطلقنا إلى أبي بَصْرة، فوجدناه عند الباب الذي يَلِي دار عَمرو بن العاص" يعني: أنه بعد أن بَلغهما الخَبر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أرادا التأكد من صحته، فذهبا إلى أبي بَصْرَة رضي الله عنه ، فلما وصلا إلى أبي بصرة رضي الله عنه سأله أبو ذر عن صحت ما نقله عن النبي صلى الله عليه وسلم "قال: نعم، قال: أنت سَمعته؟ قال: نعم، قال: أنت سمعته؟ قال: نعم"، فأكَّد لهما أنَّ ما نُقِل عن النبي صلى الله عليه وسلم : "إن الله زادكم صلاة.." صحيح.

  • فضل الله -تعالى- على عباده، حيث يَمُنُّ عليهم بعباد ليزيد في حسناتهم، ويرفع في درجاتهم.
  • هذا الحديث من الأحاديث التي ظاهرها الوجوب؛ ولكن قد صُرف ظاهره بالأدلة الصحيحة الصريحة إلى توكيد سنِّية الوتر.
  • بيان وقت صلاة الوِتر، وهو: ما بَيْن صلاة العشاء إلى طلوع الفجر؛ فلا يشرع الوتر إلا في وقته.
  • حِرص الصحابة على التَّثبت من نَقْل حديث رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید