حدیث

نبی ﷺ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر اور فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها ، قالت: «كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة منها الوِتر، وركعتا الفجر».

ترجمہ

عائشہ رضی الله عنها سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر اور فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔

تشریح

عائشہ رضی الله عنها خبر دے رہی ہیں کہ نبی ﷺ ہمیشہ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر بھی ہوتی تھی۔ چاہے رمضان ہو، یا غیر رمضان، اور اسی طرح فجر کی دو رکعتوں کی مداومت کیا کرتے تھے، مداومت سے مراد کثرت سے پڑھنا ہے، جیسا کہ وارد ہے کہ نبی ﷺ جب رمضان کا آخری عشرہ داخل ہوتا تھا، تو آپ ﷺ اس میں اتنی محنت کیا کرتے تھے جتنی کہ آپ اس کے علاوہ دوسرے میں نہیں کرتے تھے، چنانچہ اس سے مراد، نبی ﷺ رکعتوں کو لمبی کیا کرتے تھے، نہ کہ رکعتوں میں اضافہ فرماتے تھے، نبی ﷺ رات میں کبھی تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے اور کبھی گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے۔ (کچھ روایتوں میں) یہ بھی آیا ہے کہ آپ ﷺ کبھی اس سے کم بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔

تشریح: العربية

تخبر عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يداوم على صلاة ثلاث عشرة ركعة في الليل ومنها الوتر سواء أكان ذلك في رمضان أو غيره، وكذلك كان يداوم على ركعتي الفجر، والمراد بالمداومة الإكثار، لما ورد من أنه -صلّى الله عليه وسلّم- إذا دخل العشر الأواخر من رمضان يجتهد فيه ما لا يجتهد في غيره، فهو محمول على التطويل في الركعات دون الزيادة في العدد، وقد كان -صلّى الله عليه وسلّم- يصلي ثلاث عشرة، ويصلي إحدى عشرة، وجاء أنه يصلي أقل من ذلك.

  • الأفضل العمل بجميع الروايات الثابتة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- في قيام الليل، وما ورد في هذا الحديث أحد هذه الصفات.
  • أن هذا الحديث يبين إحدى كيفيات صلاة الليل التي فعلها -عليه السلام-، فقد صلى عشر ركعات مثنى مثنى وصلى ثلاث ركعات وتراً.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید