حدیث

جس نے صبح (صادق) سے پہلے وتر نہيں پڑھی تو اس کی وتر نہيں ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من أدركه الصبح ولم يوتر؛ فلا وتر له».

ترجمہ

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”جس نے صبح (صادق) سے پہلے وتر نہيں پڑھی تو اس کی وتر نہيں ہے“۔

تشریح

اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ وتر کی نماز کا وقت صبح ہونے یعنی طلوعِ فجر ثانی سے ختم ہوجاتا ہے، اوریہ وتر كا اختیاری وقت ہے، اوروترکی نماز کا اضطراری وقت جیسے دیر سے بیدار ہونے والے شخص کے لیے تو یہ فجر کی نماز تک رہتا ہے، جیسا کہ یہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت سے ثابت ہے۔

تشریح: العربية

يبين الحديث الشريف أن صلاة الوتر تفوت بالإصباح أي بطلوع الفجر الثاني، وهذا الوقت الاختياري، أما الاضطراري كمن استيقظ متأخرا فيستمر وقت الفجر له إلى صلاة الصبح؛ لوروده عن جمع من الصحابة رضي الله عنهم .

  • الوتر من صلاة الليل، ولكنه يختم به صلاتها؛ ليوترها، كما تختم صلاة النهار بصلاة المغرب؛ لتوترها.
  • أنَّ آخر وقت الوتر هو طلوع الفجر الثاني، فإذا طلع الفجر، فقد فات وقت الوتر، فمن أوتر بعد طلوع الصبح فلا وتر له.
  • وذكر ابن المنذر عن جماعة من السلف: أنَّ للوتر وقتين: اختياري واضطراري، فالاختياري ينتهي بطلوع الفجر الثاني، والاضطراري لا ينتهي إلاَّ بصلاة الصبح.
  • ظاهر الحديث: أنَّ الوتر الذي فات وقته إذا كان تركه من عمد، فإنَّ تاركه فوَّت أجره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید