حدیث

کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟" اس نے جواب دیا : جی، سنتا تو ہوں، تو آپ نے کہا : "(نماز کی ندا لگانے والے کی ندا) قبول کرو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَجِبْ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی رہبر نہيں ہے، جو مجھے مسجد لے آئے۔ چنانچہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گزارش کی کہ آپ اسے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دے دیں۔ آپ نے اسے رخصت دے بھی دی۔ لیکن جب وہ جانے لگا، تو آپ نے اسے بلایا اور پوچھا : "کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟" اس نے جواب دیا : جی، سنتا تو ہوں، تو آپ نے کہا : "(نماز کی ندا لگانے والے کی ندا) قبول کرو۔"

تشریح

ایک نابینا شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جو میری مدد کرے اور پانچ وقت کی فرض نمازوں کے لیے ہاتھ پکڑ کر مجھے مسجد لے آیا کرے۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ آپ اسے جماعت میں شامل نہ ہونے کی اجازت دے دیں۔ آپ نے اجازت دے بھی دی۔ لیکن جب وہ جانے لگا، تو اسے بلایا اور پوچھا کہ کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟ جب انھوں نے ہاں میں جواب دیا، تو فرمایا : نماز کی ندا لگانے والے کی ندا قبول کرو۔

فوائد

  • جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے، کیوں کہ رخصت کسی ایسی چیز میں دی جاتی ہے، جو واجب و لازم ہو۔
  • حدیث کے الفاظ "(نماز کی ندا لگانے والے کی ندا) قبول کرو۔" یہ بتاتے ہيں کہ اذان سننے والے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے، کیوں کہ امر (حکم) اصلا وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
تشریح: العربية

أتَى رجُلٌ أعْمَى إلى النبيِّ صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله ليس عندي مَن يُساعدني ويأخذ بيدي إلى المسجد، في الصلوات الخمس، يريد أنْ يُرخِّصَ له النبيُّ صلى الله عليه وسلم في ترك الجماعة، فَرَخَّصَ له، فلمَّا أَدْبَرَ ناداه وقال: هل تسمع الأذان بالصلاة؟ قال: نعم، قال: فأجب المُنادي بالصلاة.

  • وجوب صلاة الجماعة؛ لأن الرُّخصة لا تكون إلا من شيء لازم وواجب.
  • قوله: «فأجب» لمن يسمع النداء يدل على وجوب صلاة الجماعة؛ لأن الأصل بالأمر للوجوب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید