ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه قال: قال رجل يا رسول الله، لا أكاد أدرك الصلاة مما يطول بنا فلان، فما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم في موعظة أشد غضبا من يومئذ، فقال: «أيها الناس، إنكم منفرون، فمن صلى بالناس فليخفف، فإن فيهم المريض، والضعيف، وذا الحاجة».
ترجمہ
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے (آکر) کہا کہ اے اللہ کے رسول! ہوسکتا ہے کہ میں نماز (جماعت کے ساتھ) نہ پاسکوں کیوں کہ فلاں شخص ہمیں (بہت) طویل نماز پڑھایا کرتا ہے، (ابو مسعود کہتے ہیں کہ) اس دن سے زیادہ میں نے کبھی نبی ﷺ کو وعظ و نصیحت کے دوران اتنا غضب ناک نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو ! تم میں سے بعض (دوسروں کو نماز سے) متنفر کرنے والے ہیں۔ دیکھو جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی پڑھائے، کیوں کہ ان میں بیمار، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں۔
تشریح
ایک آدمی نے نبی ﷺ سے شکایت کی کہ وہ امام کے لمبی نماز پڑھانے کی وجہ سےکبھی کبھار جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے پیچھے رہ جاتے ہیں، تو نبی ﷺ شدید غصہ ہوئے اور لوگوں کو نصیحت کی اور خبر دی کہ ان میں سے بعض لوگ نماز سے لوگوں کو نفرت دلانے والے ہیں، اور امام کو حکم دیا کہ وہ ہلکی نماز پڑھائے تاکہ مقتدیوں کو آسانی اور سہولت ہو اور جب وہ نماز سے فارغ ہوں تو ان کی چاہت نماز کے لیے ابھی باقی ہو۔ اور اس لیے کہ مقتدیوں میں بہت سے لوگ کمزوری یا بیماری یا کسی حاجت کی وجہ سے لمبی نماز ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اگر نمازی اکیلا ہو تو جتنی لمبی چاہے ادا کرے کیوں کہ اس سے دوسرے کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
تشریح: العربية
اشتكى رجل للنبي صلى الله عليه وسلم أنه يتأخر عن صلاة الجماعة أحيانا بسبب تطويل الإمام، فغضب النبي صلى الله عليه وسلم غضبا شديدا، ثم وعظ الناس وأخبرهم أن منهم من ينفر الناس في الصلاة، وأمر صلى الله عليه وسلم الإمام بالتخفيف فيها، لتتيسر وتسهل على المأمومين، فيخرجوا منها وهم لها راغبون، ولأن في المأمومين من لا يطيق التطويل، إما لعجزه، أو مرضه أو حاجته. فإن كان المصلى منفردا فليطول ما شاء؛ لأنه لا يضر أحداً بذلك.
- استحباب تخفيف الصلاة، إذا أمَّ الناس، والحكمة في ذلك وجود الصغير والكبير والضعيف، ممن لا يطيقون إطالة الصلاة، وكذلك صاحب الحاجة.
- أنَّه لو كان العدد محدودًا، وآثروا التطويل، أنَّه جائز؛ لأنَّهم أصحاب الحق في ذلك، وقد جاءت الرغبة منهم، فلا بأس إذن بالتطويل.
- إذا صلَّى وحده، فليصل ما شاء؛ لأنَّ ذلك راجع إلى رغبته ونشاطه، وينبغي تقييده بما لا ينشغل به عن الواجبات.
- مراعاة الضعفاء والعجزة في جميع الأمور، التي يشاركهم فيها الأقوياء؛ سواء في الأمور الدينية، أو الاجتماعية؛ لأنَّه الذي يجب مراعاته والعمل به.
- التخفيف فيه مصالح منها:1 ـ الرفق بمن وراء الإمام. 2 ـ تأليف الناس وتحبيب الصلاة إليهم. 3 ـ دعوتهم إلى المواظبة على صلاة الجماعة.